’کار کے ساتھ 10-12 کلومیٹر تک گھسٹتی‘ رہنے والی لڑکی کے ساتھ اس رات کیا ہوا تھا؟

- مصنف, دلنواز پاشا
- عہدہ, نمائندہ بی بی سی، دہلی
انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے کانجھا والا علاقے میں پیش آنے والے واقعے میں پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والی لڑکی کے ساتھ ایک دوسری لڑکی بھی موجود تھی جس کا بیان ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں سال 2023 کے آغاز کے چند گھنٹے بعد ہی ایک سڑک حادثے میں ایک نوجوان خاتون کی المناک موت ہوئی جس پر شہریوں کی جانب سے غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پولیس اہلکاروں کے مطابق کار سے ٹکرانے کے بعد لڑکی کا جسم کار میں پھنس گیا اور وہ کئی کلومیٹر تک گھسٹتی چلی گئی۔
ملک کے وزیر داخلہ نے پولیس سے رپورٹ طلب کی ہے۔
دہلی پولیس کے سپیشل سی پی (لا اینڈ آرڈر) ساگر پریت ہڈا نے پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ ’متاثرہ لڑکی کے ساتھ ایک اور لڑکی بھی تھی۔ حادثے میں انھیں کوئی چوٹ نہیں آئی۔ حادثے کے بعد وہ اٹھ کر چلی گئی۔‘
انھوں نے بتایا ’اب ہمارے پاس واقعے کا عینی شاہد ہے جو پولیس کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ اس (لڑکی) کا بیان سی آر پی سی کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک اہم بات ہے۔‘
سپیشل سی پی ہڈا نے کہا کہ ’یہ ملزمان کو سزا دلانے میں اہم ثابت ہوگا۔ اس معاملے میں تحقیقات جاری ہے۔ جلد ہی دہلی پولیس تحقیقات مکمل کرے گی۔ مجرموں کو سخت سزا دی جائے گی۔‘
ہلاک ہونے والی لڑکی کا پوسٹ مارٹم دہلی کے مولانا آزاد میڈیکل کالج میں کیا جا رہا ہے۔ لیکن پولیس نے فی الحال پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہani
اس رات کیا ہوا؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
31 دسمبر کی رات 8 بجکر 29 منٹ پر 29 سیکنڈ کی فون کال پر ماں نے بیٹی سے پوچھا ’کب تک گھر آؤگی‘، بیٹی نے جواب دیا، ’دیر ہو جائے گی‘۔
اس کے بعد ماں کی بیٹی سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ اگلی صبح ایک خاتون پولیس اہلکار نے فون کیا اور بتایا کہ ’آپ کی سکوٹی کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے، تھانے آ جائیے‘۔
کانجھا والا میں رونما ہونے والے واقعے میں جان کی بازی ہارنے والی لڑکی کی ماں راستے میں تھی کہ ایک پولیس کی گاڑی انھیں لینے آگئی جو انھیں پہلے جائے واردات اور پھر سلطان پوری تھانے لے گئی۔
لڑکی کی والدہ کا کہنا ہے کہ اس وقت تک انھیں نہیں بتایا گیا کہ ان کی بیٹی کے ساتھ کیا ہوا، ’میں پولیس سے منتیں کرتی رہی لیکن میری بیٹی مجھے نہیں دکھائی گئی۔‘
ان کی 20 سالہ بیٹی گھر کی واحد کمانے والی تھی۔ واقعے کے دو دن گزرنے کے بعد بھی ابھی تک یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ اس رات اس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔
لڑکی کی موت کی تحقیقات کرنے والی دہلی پولیس اسے ہٹ اینڈ رن کیس کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
پولیس کے مطابق سلطان پوری کے کرشنا وہار علاقے میں سکوٹی پر سوار ایک لڑکی کی گاڑی کار سے ٹکرا گئی، اس کی لاش کار میں پھنس گئی اور 12 کلومیٹر تک گھسٹتی گئی۔
نئے سال کی پہلی صبح یعنی یکم جنوری کو دہلی کے جونتی گاؤں میں لڑکی کی لاش برہنہ حالت میں ملی۔ امکان ہے کہ ان کے کپڑے بھی گھسٹنے سے پھٹ گئے ہوں گے۔

’اکلوتی کمانے والی تھی‘
دہلی کے منگول پوری علاقے میں 22 گز کے پلاٹ پر بنے مکان میں مایوسی کی حالت میں بیٹھی متاثرہ لڑکی کی ماں نے واقعے کے بعد سے کچھ نہیں کھایا ہے۔
لڑکی کی والدہ کہتی ہیں ’ہمارے پاس دس روپے بھی نہیں ہیں۔ ہمارے پاس اپنی بیٹی کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔ میری بیٹی گھر میں واحد کمانے والی تھی۔‘
ان کے شوہر کی بھی آٹھ سال قبل مشتبہ حالات میں موت ہو گئی تھی۔ انھیں یقین ہے کہ انھیں قتل کیا گیا تھا، لیکن پولیس نے اسے خودکشی کا معاملہ بتایا تھا۔
اپنے شوہر کی موت کے بعد وہ اکیلے ہی اپنے چھ بچوں کی پرورش کر رہی تھیں لیکن دو سال پہلے وہ شدید بیمار ہو گئیں۔ اس کے بعد ان کی بیٹی نے خاندان کی ذمہ داری سنبھال لی۔ غربت کے باعث مرنے والی کی والدہ نے اپنی دو بیٹیوں کی شادی کم عمری میں کر دی۔
وہ کہتی ہیں ’میری بیٹی بہت خوش مزاج تھی۔ اسے رِیلز بنانے کا شوق تھا، وہ بہت خوش رہتی تھی۔‘
اہل خانہ کے مطابق لڑکی تقریبات میں ویلکم گرل کا کام کرتی تھی۔ وہ شادیوں میں مہمانوں کے استقبال کے لیے جاتی تھی۔
لڑکی کی والدہ کا کہنا ہے کہ ’وہ روزانہ 500 روپے کما لیتی تھی، اس سے ہمارا خاندان چلتا تھا۔‘
تاہم، وہ یا ان کے خاندان میں کوئی بھی نہیں جانتا کہ وہ کس ایونٹ کمپنی میں کام کرتی تھی۔ گھر والوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ 31 دسمبر کی رات کہاں گئی تھی۔
اپنی بیٹی کے ساتھ ہونے والی آخری گفتگو کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس نے صرف اتنا کہا تھا کہ دیر ہو جائے گی لیکن یہ نہیں بتایا کہ تقریب کہاں تھی۔
پولیس کے خلاف مظاہرے
سوموار کو بڑی تعداد میں مقامی لوگوں نے دہلی کے سلطان پوری پولیس سٹیشن کے باہر پولیس کے خلاف مظاہرہ کیا۔
مظاہرین متاثرہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ کو انصاف دیے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
لڑکی کی موت نے اس علاقے میں سب کو صدمے میں ڈال دیا ہے۔ احتجاج میں شرکت کے لیے آنے والی ایک خاتون اوم وتی نے کہا ’ہمیں لگتا ہے کہ پولیس مجرموں کو بچا رہی ہے۔ مجرموں کو سزا ملنی چاہیے۔‘
مظاہرین نے دہلی پولیس کے خلاف نعرے لگائے اور تھانے کے باہر لگے ایک ملزم کے پوسٹر بھی پھاڑ ڈالے۔

،تصویر کا ذریعہDELHI POLICE
پانچ افراد گرفتار
دہلی پولیس نے اس معاملے میں پانچ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر کار کی شناخت کر کے ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ کار کو دیپک کھنہ نامی نوجوان چلا رہا تھا جبکہ امیت کھنہ، منوج متل، متھن اور کرشنا بھی اس میں بیٹھے تھے۔
دیپک کھنہ پیشے سے ڈرائیور ہیں۔ امیت کھنہ ایک بینک میں کام کرتے ہیں۔ کرشنا اسپین کے ثقافتی مرکز میں کام کرتے ہیں۔ متھن ہیئر ڈریسر ہیں اور منوج متل سلطان پوری کے پی بلاک میں راشن کی دکان چلاتے ہیں۔
مقامی لوگوں کے مطابق منوج متل کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے۔ سلطان پوری اور منگل پوری میں ایسے پوسٹر بھی لگے ہیں جن میں انھیں مبارکباد پیش کی گئی ہے۔
سلطان پوری پولیس سٹیشن کے باہر منوج متل کے ہورڈنگز بھی لگے تھے جنھیں مشتعل ہجوم نے توڑ دیا۔
تمام ملزمان اسی علاقے منگول پوری کے رہنے والے ہیں۔ ہلاک ہونے والی لڑکی بھی اسی علاقے میں رہتی تھی، اس کے اور ملزم کے گھر کے درمیان ڈیڑھ سے دو کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔
پولیس پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں
اس واقعے سے متعلق کئی عینی شاہدین بھی سامنے آئے ہیں جو پولیس کے کام کرنے کے طریقے پر سنگین سوالات اٹھا رہے ہیں۔
سلطان پوری علاقے میں رہنے والے ڈیلیوری بوائے وکاس مہرا کا دعویٰ ہے کہ اس نے 31 دسمبر کی رات کار کے نیچے لڑکی کی لاش دیکھی تھی۔
وکاس مہرا کا کہنا ہے کہ ’رات کے 2.15 بجے ہوں گے، میں کنجھا والا روڈ سے آ رہا تھا، آگے پولیس چوکی دیکھ کر اچانک ایک کار تیز رفتاری سے مڑ گئی اور میں ٹکرانے سے بچ گیا، مجھے اس کی گاڑی کے نیچے ایک لڑکی کا سر نظر آیا۔‘
وکاس کا دعویٰ ہے کہ ’میں نے اس بارے میں پولیس چوکی پر اطلاع دی، لیکن وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے مجھے یہ کہہ کر روک دیا کہ تجھے تو کوئی چوٹ نہیں لگی، ہم گاڑی دیکھ لیں گے، تو گھر جا۔‘
وکاس کے والد کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے ان کے بیٹے کو خبردار کیا کہ وہ میڈیا سے بات نہ کرے۔
ایک اور عینی شاہد دیپک نے بھی لڑکی کو گاڑی کے نیچے دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔

’کوئی پولیس والا نہیں آیا‘
دیپک دہلی کے لاڈ پور گاؤں میں رہتے ہیں اور دودھ کا بزنس کرتے ہیں۔ دیپک کہتے ہیں ’میں نے صبح تین بج کر 18 منٹ پر اپنی دکان کھولی تھی، اسی وقت ایک بلینو کار دھیمی رفتار سے آرہی تھی۔‘
وہ کہتے ہیں ’کار سے ایسی آواز آرہی تھی جیسے ٹائر پھٹنے کے بعد آتی ہو۔ کنجھا والا سے آنے والی گاڑی آہستہ آہستہ قطب گڑھ کی طرف جا رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ لاش اس کے اگلے ٹائر کے نیچے پھنسی ہوئی تھی۔‘
دیپک کا کہنا ہے کہ اس نے فوری طور پر 112 پر کال کی اور پولیس کو اطلاع دی۔
دیپک کا کہنا ہے کہ رات ساڑھے 3 بجے وہی گاڑی مڑ کر دوبارہ آئی۔ ’میں نے دوبارہ پولیس کو فون کیا اور بتایا کہ اب یہ گاڑی واپس کنجھا والا کی طرف جارہی ہے۔ گاڑی کی لوکیشن بتانے کے لیے میں نے اس کا سکوٹی پر پیچھا کیا۔ وہ نہ تو تیز چل رہی تھی اور نہ ہی رک رہی تھی۔‘
دیپک کا دعویٰ ہے کہ وہ پولیس کو فون پر گاڑی کے بارے میں بتاتے رہے، لیکن کوئی پولیس والا نہیں آیا۔ دیپک کہتے ہیں ’مجھے بتایا گیا کہ پولیس آگے رکاوٹیں لگا کر گاڑی کو روک لے گی۔‘
دیپک کے مطابق گاڑی نے لاڈ پور اور جونتی گاؤں کے درمیان دو چکر لگائے۔ دوسری بار جب گاڑی واپس کانجھا والا کی طرف مڑی تو اس کے نیچے کوئی لاش نہیں تھی۔
دیپک کا کہنا ہے کہ ’دوسرے چکر میں، ہم نے اپنی پک اپ کار میں گاڑی کا پیچھا کیا اور کنجھا والا کی طرف تعینات پی سی آر کو اطلاع دی، لیکن پی سی آر نے گاڑی کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔‘
صبح کام پر جانے والے لوگوں نے جونتی گاؤں کے قریب سڑک کے درمیان لڑکی کی لاش پڑی دیکھی۔ اس کے کپڑے بالکل پھٹے ہوئے تھے۔ صرف پینٹ کا کچھ حصہ ہی بچا تھا۔

حادثہ کہاں ہوا؟
ایف آئی آر کے مطابق یہ واقعہ کرشنا وہار کے شنی بازار روڈ پر صبح دو بجے کے قریب پیش آیا۔ یہ علاقہ سلطان پوری پولیس سٹیشن کے ایک کلومیٹر کے دائرے میں ہے۔
پولیس نے ایف آئی آر میں دعویٰ کیا ہے کہ سکوٹی کو وہیں سے برآمد کیا گیا ہے۔
جائے وقوعہ پر موجود ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ساڑھے چار، پونے پانچ بجے میری والدہ نے کچھ ٹکرانے کی آواز سنی اور کھڑکی کھولی، میں بھی جاگ گیا، پولیس اہلکار یہاں سے سکوٹی لے جا رہے تھے، سکوٹی کا ہینڈل ٹوٹا ہوا تھا۔‘
عینی شاہدین کے مطابق سکوٹی ان کے گھر کے بالکل پیچھے والی گلی میں کھڑی تھی۔ یہ گلی شانی بازار مارگ سے ہی نکلتی ہے۔
بی بی سی نے کرشنا وہار کے شانی بازار علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی ہے، جس میں حادثے میں ملوث بلینو کار صبح 1.53 بجے دکھائی دے رہی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں سکوٹی بھی نظر آرہی ہے۔ تاہم اس دھندلی سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر اس بات کی تصدیق نہیں کی جا سکتی ہے کہ یہ سکوٹی وہی ہے جس پر متاثرہ لڑکی سوار تھی۔
اس سڑک پر رہنے والے انکور شرما کا کہنا ہے کہ یہاں کسی کو بھی اس حادثے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
انکور شرما کہتے ہیں ’صبح 4:30 بجے سکوٹی دیکھی گئی ہے۔ رات 1:54 پر وہ مشکوک گاڑی بھی ہماری گلی میں پائی گئی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اس لڑکی کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے، اسے انصاف ملنا چاہیے۔‘
جونتی گاؤں کرشنا وہار سے پورے 14 کلومیٹر دور ہے۔ یہاں سے جونتی گاؤں پہنچنے میں 35 منٹ لگتے ہیں۔ ہم نے کرشنا وہار سے جونتی گاؤں تک گاڑی سے سفر کیا، دونوں طرف سے ٹھیک پینتیس منٹ لگے۔
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کرشنا وہار میں صبح 1.54 بجے نظر آنے والی گاڑی کا ڈرائیور حادثے کے بعد خوف کے مارے بھاگ رہا تھا تو جونتی گاؤں تک پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹہ کیوں لگا؟
پولیس کے مطابق حراست میں لیے جانے کے بعد ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ کرشنا وہار میں حادثے کے بعد وہ خوف کے مارے کنجھا والا کی طرف بھاگ گئے تھے۔

ریپ اور قتل کے الزامات
مشتبہ حالات میں جان گنوانے والی لڑکی کے رشتہ داروں اور مظاہرین کا الزام ہے کہ لڑکی کو ریپ کے بعد قتل کیا گیا ہے۔
لڑکی کی والدہ کا کہنا ہے کہ ’پولیس نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ہر پہلو سے تفتیش کی جائے گی اور اگر پوسٹ مارٹم میں کچھ اور سامنے آیا تو ان سیکشنز کو بھی جوڑا جائے گا‘۔
وہ کہتی ہیں ’پولیس نے کہا ہے کہ اگر تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ریپ ہوا ہے، تو ریپ اور قتل کی دفعات بھی شامل کی جائیں گی۔‘
پولیس نے اس معاملے میں اب تک مجرمانہ قتل اور لاپرواہی سے گاڑی چلانے کی دفعات لگائی ہیں۔
تحقیقاتی ٹیم نے جائے وقوعہ اور حادثے میں ملوث گاڑیوں کا بھی معائنہ کیا اور فرانزک شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہani
دہلی پولیس کا کیا کہنا ہے؟
دہلی پولیس نے منگل کی صبح کانجھاوالا معاملے میں ایک نئی جانکاری دی ہے، جس کے مطابق واقعے کے وقت مرنے والی لڑکی تنہا نہیں تھی۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق دہلی پولیس نے بتایا ہے کہ ’جب ہم نے ہلاک ہونے والی لڑکی کے راستے کی چھان بین کی تو پتہ چلا کہ وہ اپنی سکوٹی پر اکیلی نہیں تھی۔‘
’حادثے کے وقت ان کے ساتھ ایک نوجوان خاتون بھی موجود تھی جو زخمی ہونے کے بعد موقع سے فرار ہو گئی۔ لیکن متاثرہ کی ٹانگ کار میں پھنس گئی جس کی وجہ سے وہ گاڑی کی گھسٹتی رہی۔‘
پولیس نے یہ بھی بتایا ہے کہ ’لڑکی کی لاش پر گاڑی کے ساتھ کچھ کلومیٹر تک گھسٹنے کی وجہ سے سر کے پچھلے حصے اور جسم کے پچھلے حصے پر بری طرح زخم آئے تھے۔‘
دہلی پولیس کے سینیئر افسر ساگردیپ ہڈا نے پریس کانفرنس میں بتایا، ’لڑکی کو تقریباً 10-12 کلومیٹر تک گھسیٹا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’تحقیقات کی بنیاد پر اب تک پانچ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، پوسٹ مارٹم کرنے والے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی بنیاد پر مزید تفتیش کی جائے گی، فرانزک اور قانونی ٹیموں کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔ ٹیمیں معاملے کی تحقیقات کر رہی ہیں۔'
اسی دوران دہلی پولیس کے ترجمان سمن نلوا نے بی بی سی کو بتایا ’تفتیشی افسر کی رپورٹ کے مطابق، ابتدائی طور پر یہ سڑک حادثے کا معاملہ لگتا ہے۔ تحقیقات جاری ہیں اور اگر اس میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت ہوئی تو مزید شقیں شامل کی جائيں گی۔‘













