دلی: لڑکی پر پھینکا گیا تیزاب آن لائن منگوایا گیا تھا ، دو کمپنیوں کو نوٹس

تیزاب

،تصویر کا ذریعہHINDUSTAN TIMES/GETTY IMAGES

انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں ایک سکول کی طالبہ پر تیزاب پھینکنے کے معاملے میں دو آن لائن شاپنگ پلیٹ فارمز کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

اس سے قبل پولیس نے کہا تھا کہ لڑکی پر پھینکا گیا تیزاب آن لائن خریدا گیا تھا۔ اس کے بعد دہلی وومن کمیشن نے فلپ کارٹ اور ایمیزون کو نوٹس جاری کیا ہے۔

کمیشن نے نوٹس میں لکھا، ’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ فلپ کارٹ اور ایمیزون جیسے معروف آن لائن شاپنگ پلیٹ فارمز پر تیزاب آسانی سے دستیاب ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔ یہ انتہائی سنجیدہ اور تشویشناک معاملہ ہے اور اس معاملے کی فوری تحقیقات کی ضرورت ہے‘۔

کمیشن کی چیئرپرسن سواتی مالیوال نے کہا ہے کہ ’تیزاب کا یہ غیر قانونی کام کھلے عام جاری ہے، جو درست نہیں، ان دونوں کو جوابدہ ہونا چاہیے‘۔

کمیشن نے فلپ کارٹ اور ایمیزون سے بھی پوچھا ہے کہ کیا کمپنیوں نے تیزاب فروخت کرنے والے ان دکانداروں کے لائسنس کی تحقیقات کی ہے، اگر نہیں، تو اس کی وجہ بتائی جائے‘۔ کمیشن نے دونوں کمپنیوں سے تیزاب خریدنے والوں کے بارے میں مکمل معلومات دینے کو بھی کہا ہے اور سوال کیا ہے کہ کیا آن لائن تیزاب خریدنے والوں سے فوٹو شناختی کارڈ مانگے گئے تھے؟

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

نیشنل وومن کمیشن بھی متحرک ہو گیا

اس معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے خواتین کے قومی کمیشن نے بھی اپنی ٹیم کو تحقیقات کے لیے ہسپتال بھیج دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ متاثرہ لڑکی کی مکمل مدد کرے گا۔ خواتین کمیشن کی چیئرپرسن ریکھا شرما نے کہا ہے کہ اس معاملے میں متاثرہ لڑکی کی عمر صرف 17 سال ہے، اس لیے قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال بھی اس معاملے کی تحقیقات کرے گا۔

کمیشن نے دہلی حکومت کے محکمہ داخلہ کو بھی نوٹس جاری کیا ہے جس میں تیزاب کی فروخت پر پابندی کے بارے میں کارروائی کی رپورٹ طلب کی ہے۔

معاملہ کیا ہے ؟

14 دسمبر کو دہلی کے دوارکا علاقے میں دو موٹر سائیکل پر سوار لڑکوں میں سے ایک نے سکول جانے والی ایک طالبہ پر تیزاب پھینک دیا۔ یہ 17 سالہ لڑکی دہلی کے صفدر جنگ ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ دہلی پولیس کے سپیشل کمشنر ساگر پریت ہڈا کا کہنا ہے کہ طالبہ 8 فیصد جھلس چکی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں انہوں نے 12 گھنٹے کے اندر تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ہڈا نے کہا ’اصل مجرم سچن نے فلپ کارٹ سے تیزاب خریدا تھا اور پے ٹی ایم کے ذریعے اس کی ادائیگی کی تھی‘۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نابالغ لڑکی اور سچن کے درمیان اس سال ستمبر تک دوستی تھی لیکن اس کے بعد کسی بات پر جھگڑا ہوگیا اور لڑکی نے اس سے بات کرنا بند کردیا تھا۔

رشمی اگروال

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنرشمی پر جب تیزاب پھینکا گیا وہ 16 سال کی تھیں
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ملک میں تیزاب کی فروخت پر پابندی ہے

2013 میں خواتین پر تیزاب کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پیش نظر سپریم کورٹ نے ملک میں دکانوں پر تیزاب کی فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی۔عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ تیزاب کی فروخت کے وقت خریدار کو اپنا شناختی کارڈ دکھانا ہوگا۔

2020 میں اتر پردیش کے گونڈا ضلع میں تین نابالغ لڑکیوں پر تیزاب پھینکنے کا معاملہ سامنے آیا تھا ۔ نیشنل کریمنل ریکارڈ بیورو کے مطابق 2014 سے 2018 کے درمیان ملک میں تیزاب پھینکنے کے 1,483 واقعہ ہوئے ہیں۔ اس عرصے کے دوران، جو ریاستیں اس طرح کے معاملات میں سرفہرست ہیں، ان میں اتر پردیش، بنگال اور دہلی شامل ہیں۔

عدالت نے کیا کہا

2006 میں، لکشمی اگروال نامی ایک متاثرہ نے تیزاب سے حملے کے بعد سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی۔ جب لکشمی پر تیزاب پھینکا گیا تو وہ صرف 16 سال کی تھیں۔

لکشمی نے عدالت سے اپیل کی کہ تیزاب کی کھلے عام فروخت پر پابندی عائد کی جائے اور تیزاب پھینکنے کو جرم کے زمرے میں شامل کیا جائے، تعزیرات ہند میں مناسب دفعات شامل کی جائیں اور مجرم کو سزا دینے کے لیے قانون میں سخت دفعات ہوں۔

ساتھ ہی انہوں نے متاثرہ کے لیے مدد کی بھی التجا کی تھی تاکہ اسے ایک بار پھر سے معمول کی زندگی میں واپس آنے میں مدد کی جا سکے۔ اس معاملے میں، 2013 میں، عدالت نے فیصلہ کیا کہ تیزاب کی فروخت کے لیے لائسنس ضروری ہو گا اور اس شخص کو دی پوائزن ایکٹ 1919 کے تحت رجسٹر کرانا ہو گا ۔

اس کے بعد حکومت نے پینل کوڈ میں ترمیم کرتے ہوئے تیزاب حملے کو خواتین کے خلاف جرم تصور کرتے ہوئے کم از کم 10 سال اور زیادہ سے زیادہ عمر قید کے ساتھ ساتھ جرمانے کی سزا کا بھی انتظام کیا۔

حکومت نے کہا کہ جرمانے کی یہ رقم متاثرہ کے علاج کے لیے استعمال کی جائے گی۔

متاثرہ کی مدد کے لیے حکومت کی جانب سے تین لاکھ روپے کے معاوضے کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ سپتال میں متاثرہ کا مفت علاج کیا جائے۔ اس معاملے میں حکومت نے کہا کہ جو ہسپتال ایسے معاملے میں متاثرہ کا علاج کرنے سے انکار کرتے ہیں انہیں زیادہ سے زیادہ ایک سال کی سزا بھی دی جا سکتی ہے اور جرمانہ بھی کیا عائد جا سکتا ہے۔