گجرات میں تین طالبات پر تیزاب سے حملہ، ایک ملزم گرفتار

ڈنگہ پولیس سٹیشن
،تصویر کا کیپشنتیزاب پھینکنے کا واقعہ جمعرات کی صبح تھانہ ڈنگہ کی حدود میں پیش آیا

صوبہ پنجاب کے شہر گجرات میں پولیس نے تین طالبات پر تیزاب پھینکنے کے واقعے میں ملوث ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دو مفرور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

یونیورسٹی آف گجرات کی طالبات پر تیزاب پھینکنے کا واقعہ جمعرات کی صبح تھانہ ڈنگہ کی حدود واقع گاؤں چنن میں اس وقت پیش آیا تھا جب وہ سٹاپ پر بس کا انتظار کر رہی تھیں۔

تیزاب سے زخمی ہونے والی لڑکیوں میں سے دو بہنیں اور ایک ان کی دوست ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق گجرات میں ڈنگہ پولیس سٹیشن کے تھانیدار امیر عباس نے بتایا ہے کہ ملزمان کا تعلق اسلام آباد سے ہے جن میں سے ایک، قدیر اسلام آباد پولیس میں بطور کانسٹیبل تعینات ہے اور دو زخمی لڑکیوں کا ماموں ہے۔

ان کے مطابق باقی دونوں ملزمان اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے میں ملازم ہیں جن میں سے ایک حسان نامی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق تاحال اس حملے کی وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے۔

گرفتار ملزم حسان نے پولیس کو بتایا کہ ان کی قدیر سے کافی عرصے سے جان پہچان ہے اور وہ حسان اور ان کے ساتھی دانش کو گجرات اس بہانے سے لایا تھا کہ اس کی بھانجی پر کسی نے تیزاب پھینکا تھا جس کے بعد وہ معذور ہو گئی اور ’ہمیں بدلہ لینے جانا ہے۔‘

حادثے میں زخمی ہونے والی لڑکیوں کو مقامی ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے ڈی پی او گجرات سے 24 گھنٹوں کے اندر واقعہ کی مکمل رپورٹ طلب کر لی ہے۔