’تیزاب کے حملے نے میری زندگی برباد کر دی‘

Jameel Muhktar's injuries to his face
،تصویر کا کیپشنتیزاب سے جھلسنے کے بعد جمعیل مختار کو کچھ دن جان بوجھ کر کومے میں رکھا گیا۔

حالیہ دنوں برطانیہ میں تیزاب سے حملوں کے واقعات میں زخمی ہونے والے افراد کا کہنا ہے کہ ’زندگی تبدیل کرنے والے ان زخموں نے انھیں تباہ کر دیا ہے اور وہ تنہائی میں رہنے لگے ہیں۔‘

رواں سال جون میں مشرقی لندن میں جمیل مختار اور اُن کی رشتے دار خاتون پر تیزاب پھینکا گیا، اس حملے میں وہ بری طرح جھلس گئے جس کے بعد انھیں کچھ دنوں میں کومے میں رکھا گیا۔

جمعیل مختار نے ابنے خیالات کے بارے میں بی بی سی کو بتایا۔

جمیل مختاراس حملے کے بعد لندن سے بولٹن منتقل ہو گئے لیکن اُن کا کہنا ہے کہ اُن کا اعتماد بالکل ختم ہو گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’چند سکینڈ میں سب کچھ تبدیل ہو گیا۔ اس نے مجھے برباد کر دیا ہے۔‘

تیزاب کے اس حملے سے پہلے تمام رشتے دار اپنی کزن ریشم خان کی اکیسویں سالگرہ منا رہے تھے، واپس جاتے ہوئے اُن کی گاڑی ایک اشارے پر روکی تھی، جب گاڑی کی کھڑکی سے کسی نے اُن پر تیزاب پھینکا۔

جمعیل مختار کے چہرے کا ایک حصہ اور پورا جسم ہی جھلس گیا، اس حملے میں اُن کی ایک آنکھ اور کان کو بھی نقصان پہنچا۔

’ایک خوفناک فلم کی مانند‘

تیزاب کے اس حملے میں مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی کی طالبہ ریشم خان کی بائیں آنکھ متاثر ہوئی اور اب تک دو بار اُن کی جلد کی پیوندکاری ہو چکی ہے۔

Images of Resham Khan before and after the acid attack

،تصویر کا ذریعہResham Khan

،تصویر کا کیپشنریشم خان اپنی اکیسویں سالگرہ منا رہی تھی جب اُن پر تیزاب پھینکا گیا

جمیل مختار کا کہنا ہے کہ اب وہ چوبیس گھنٹے تک اپنے ’بستر‘ تک ہی محدود ہو گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ جب سے یہ واقعہ ہوا ہے ’میں ہر چیز کے بارے میں بہت محتاط ہو گیا ہوں۔‘

’یہاں تک اپنے کمرے کے دروازے کے بارے میں بھی، میں دروازہ کھولتے ہوئے دو سے تین بار سوچتا ہوں کیونکہ اُس دن میں نے جو تکلیف اٹھائی ہے وہ تھکا دینے والی ہے۔‘

’اندازہ کریں کہ آپ کی جلد اتر رہی ہے، آپ دیکھ بھی نہیں سکتے اور آپ جھلس رہے ہیں، یہ بالکل ڈروانی فلم جیسا ہے۔‘

’میں سو نہیں سکتا، میں صحیح سے کھا بھی نہیں سکتا اور میرا اعتماد بالکل ختم ہو گیا ہے۔‘

میں زیادہ وقت گھر سے باہر گزارنے والا شخص تھا اور اب میں تہنائی پسند ہو گیا ہوں۔ میں کسی سے ملنا نہیں چاہتا۔‘

حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے جمیل مختار نے بتایا کہ ’وہ لڑکا میری گاڑی کی جانب بڑھا اور مجھے ایسا لگا جیسا بہت سا پانی میری گاڑی میں آیا ہے اور پھر میں جھلسنے لگا۔‘

میں نے کھڑکی کے شیشے اوپر کرنے کی کوشش کی لیکن میں جلن کی وجہ سے کچھ دیکھ نہیں سکتا تھا۔‘

Jameel Muhktar in hospital gown

،تصویر کا ذریعہJameel Muhktar

،تصویر کا کیپشنجمعیل مختار کا کہنا ہے کہ اس حملے نے اُن کا ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی طور پر زخمی کیا ہے

انھوں نے بتایا کہ’کزن کو گاڑی سے نکالنے سے پہلے انھوں نے گاڑی چلانے کی کوشش کی لیکن گاڑی سٹرک کے کنارے لگے جنگلے سے ٹکرا گئی۔‘

’ہمارے کپڑے گھل رہے تھے، میں نے لوگوں کے دروازے کٹھکٹھائے اور اُن سے پانی مانگا۔

’میں نے تمام پانی اپنی کزن کے چہرے پر ڈالا اور میں نے اپنے آپ کو جھلسنے دیا، میں برا تھا، میں مر رہا تھا اور دو دن کے بعد جب مجھے ہوش آیا تو اُس وقت میری زندگی بچانے والے مشینوں کے رحم و کرم پر تھی۔‘

میں ایک کان سے سن نہیں سکتا۔ تیزاب کان میں چلے جانے سے میرے کان کے پردے میں سوراخ ہو گیا تھا۔‘

برطانیہ میں گذشتہ چار برسوں تیزاب پھینکنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

سنہ 2016 سے 2017 کے دوران لندن شہر میں تیزاب پھینکنے کے 398 واقعات رونما ہوئے۔