بلاول بھٹو کا مودی کو ’گجرات کا قصائی‘ کہنے کا معاملہ: پاکستان میں نانا سے موازنے، انڈیا میں ’بزدلی‘ کے طعنے

bilawal

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے انڈیا کے وزیرِ اعظم کو ’گجرات کا قصائی‘ کہنے اور ان کے انڈیا کے وزیرِ خارجہ کے بیان پر دیے گئے ردِ عمل کے بارے میں گذشتہ روز سے پاکستان اور انڈیا دونوں میں خوب بات چیت ہو رہی ہے۔

بلاول بھٹو کے تفصیلی بیان ظاہر ہے پاکستان میں پذیرائی اور انڈیا میں مذمت کا سبب بنا ہوا ہے اور اس حوالے سے انڈیا کیحکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے بھی سخت تنقید کی گئی ہے اور سنیچر کو ملک گیر احتجاج کی کال دی گئی ہے۔

بی جے پی کے مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے اس حوالے سے ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’انتہائی مذموم اور شرمناک ہے اور آج کے دن انڈیا کے ہاتھوں شکست کے پاکستان کے درد کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ کا بیان دراصل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران انڈین وزیرِ خارجہ جے ایس شنکر کے پاکستان کو ’دہشتگردی کا مرکز‘ اور ’القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی مہمان نوازی کرنے‘ کے بیان کے ردِ عمل میں تھا۔

بلاول بھٹو نے ایک پریس بریفنگ کے دوران اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسامہ بن لادن مر چکا ہے لیکن گجرات کا قصائی آج انڈیا کا وزیراعظم ہے جس پر وزیراعظم بننے سے پہلے امریکہ میں داخلے پر پابندی تھی۔‘

بلاول بھٹو کے اس بیان پر جہاں بی جے پی کی جانب سے باضابط مذمتی بیان جاری کیا گیا وہیں سوشل میڈیا پر دونوں ممالک میں اس بارے میں گرما گرم بحث جاری ہے اور صارفین اپنے اپنے اندازمیں اس بارے میں ردِ عمل دے رہے ہیں۔

آئیے سب سے پہلے جانتے ہیں کہ بلاول بھٹو کی جانب سے اس پریس بریفنگ کے دوران اس بارے میں کیا کہا گیا ہے اور ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر کیا بات ہو رہی ہے۔

Bilawal Bhutto

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبلاول بھٹو کے نریندر مودی کو گجرات کا قصائی کہنے پر انڈیا میں غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے

’انڈیا کے لیے مسلمان اور دہشتگرد ساتھ ساتھ کہنا بہت آسان ہے‘

بلاول بھٹو نے اپنے بیان کے آغاز میں پاکستان کے دہشتگردی سے متاثر ہونے کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انھوں نے کہا کہ ’میں پاکستان کا وزیرِ خارجہ ہوں اور میں بطور محترمہ بینظیر بھٹو کے بیٹا ہونے کے دہشت گردی سے براہ راست متاثر ہوا ہوں۔

’وزیرِ اعظم شہباز شریف جب پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ تھے تو ان کے وزیرِ داخلہ (شجاع خانزادہ) دہشتگرد حملے میں مارے گئے تھے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سیاست دان، سول سوسائٹی اور پاکستان کا عام آدمی دہشتگردی سے متاثر ہوا ہے۔ ہم نے دہشتگردی کے باعث انڈیا سے کہیں زیادہ زندگیاں گنوائیں ہیں، ہم کیوں چاہیں گے کہ ہمارے اپنے لوگ متاثر ہوں، ہم بالکل ایسا نہیں چاہتے۔‘

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’بدقسمتی سے انڈیا میں ایسی صورتحال میں ہے جہاں اس کے لیے مسلمان اور دہشتگرد (ساتھ ساتھ کہنا) بہت آسان ہے۔

’اور وہ بہت آسانی سے اس لکیر کو دھندلا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں جہاں میرے جیسے لوگوں کو دہشتگردوں کے ساتھ ملایا جاتا ہے بجائے ان لوگوں کے جو ایک عرصے سے دہشتگردی سے لڑ رہے ہیں اور مسلسل ایسا کر رہے ہیں۔‘

بلاول بھٹو نے کہا کہ ’انڈیا کی جانب سے مسلسل اس فلسفے کو فروغ دیا جاتا ہے اور یہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ انڈیا میں بھی مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔

’ہم اگر پاکستانی مسلمان ہیں تب بھی ہم دہشتگرد ہیں اور اگر ہم انڈین مسلمان ہیں تب بھی ہم دہشتگرد ہیں۔‘

bilawal

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’گجرات کا قصائی اب کشمیر کا قصائی بھی ہے‘

بلاول بھٹو نے انڈیا کے وزیرِ خارجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ان کو یاد کروانا چاہتا ہوں کہ اسامہ بن لادن مر چکا ہے لیکن گجرات کا قصائی زندہ ہے اور وہ انڈیا کا وزیرِ اعظم ہے۔

’وزیرِ اعظم بننے سے پہلے تک ان کی اس ملک (امریکہ) میں داخلے پر بھی پابندی تھی۔ وہ آر ایس ایس کے وزیرِ اعظم ہیں اور آپ آر ایس ایس کے وزیرِ خارجہ۔‘

بلاول بھٹو نے آر ایس ایس کے حوالے سے تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ تنظیم ہٹلر کی ایس ایس سے رہنمائی لیتی ہے۔ میں گذشتہ روز انڈیا کے وزیرِ خارجہ کو اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ مل کر گاندھی کے مجسمے کا افتتاح کرتا دیکھ رہا تھا اور اگر انڈیا کے وزیرِ خارجہ کو بھی اتنا ہی معلوم ہے جتنا مجھے ہے تو انھیں معلوم ہو گا کہ آر ایس ایس گاندھی، ان کے نظریہ اور ان کے منشور پر یقین نہیں رکھتی۔‘

بلاول کا مزید کہنا تھا کہ ’آر ایس ایس گاندھی کو انڈیا کا بانی نہیں سمجھتی، وہ ایک ایسے دہشتگرد کو ہیرو سمجھتے ہیں جس نے گاندھی کو قتل کیا تھا۔

’انڈیا کے اندر کون دہشتگردی کو فروغ دیتا ہے، کیا پاکستان ایسا کرتا ہے؟ اس بارے میں آپ گجرات کے لوگوں سے پوچھیں وہ کہیں گے کہ ایسا ہمارے وزیرِ اعظم کرتے ہیں۔ کشمیر کے لوگوں سے پوچھیں تو وہ کہیں گے کہ گجرات کا قصائی اب کشمیر کا قصائی بھی ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

بلاول بھٹو نے اس بیان میں بی جے پی کی جانب سے گجرات الیکشن کے دوران متعدد مجرمان کی بریت کے بارے میں بھی بات کی۔

انھوں نے کہا کہ ’میں کسی تصوراتی ماضی کی بات نہیں کر رہا، میں آج کی بات کر رہا ہوں۔ وہ گجرات کے لوگوں کا خون اپنے ہاتھوں سے دھونے کی بھی کوشش نہیں کر رہے۔

’اپنی الیکشن مہم کے لیے وزیرِ اعظم مودی اور ان کی حکومت نے اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے ایسے مردوں کو معافی دی ہے جنھوں نے مسلمانوں کے خلاف ریپ جیسے جرائم کیے تھے، جنھوں نے گجرات میں خواتین کا گینگ ریپ کیا تھا۔

’ان ریپ کرنے والے دہشتگردوں کو انڈیا کے وزیرِ اعظم نے معافی دی۔ یہ اصل سچ ہے۔‘

بلاول نے کہا کہ بی جی پے کے لیے ’ نفرت پر مبنی سیاست کو فروغ دینے اور انڈیا کو ایک سیکولر ملک سے ہندو انتہا پسند ملک بنانے کے لیے یہ بیانیہ بہت اہم ہے۔‘

tweet

،تصویر کا ذریعہTwitter

’بی بی کا بیٹا ہے بہادر تو ہو گا‘

سوشل میڈیا پر پاکستان میں بلاول بھٹو کے اس بیان کے لیے ’دلیر‘ اور واضح‘ جیسے الفاظ استعمال کیے جا رہے ہیں اور اکثر سوشل میڈیا صارفین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ آج بلاول نے صحیح معنوں میں اپنے نانا کی یاد تازہ کر دی۔

دوسری جانب انڈیا میں اس حوالے سے بی جے پی کے مداحوں کی جانب سے برہمی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اور جہاں دارالحکومت نئی دہلی میں بلاول کے خلاف مظاہرہ کیا گیا وہیں سوشل میڈیا پر بھی بلاول اور پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

وسیم حیدر نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’بلاول نے نہ صرف پاکستانیوں، کشمیریوں بلکہ انڈین مسلمانوں اور سیکولر افراد کے دل بھی جیت لیے ہیں۔

ajeet

،تصویر کا ذریعہTwitter

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ایک انڈین صارف اتجیت نے لکھا کہ ’بلاول بھٹو نے ایسے بیان دے کر پاکستان میں سیاسی دکان چلانی ہے، لیکن وہ نریندر مودی کو بالکل بھی متاثر نہیں کر سکتے، جے شنگر ہی ان کا جواب دینے کے لیے کافی ہیں۔‘

اسی طرح جہاں پاکستان میں ایک صارف نے لکھا کہ ’واہ کیا بات ہے، بی بی کا بیٹا ہے بہادر تو ہو گا‘ وہیں ابوبکر نامی صارف نے لکھا کہ ’آج مجھے بلاول نے ان کے نانا کی یاد دلا دی۔‘

سندیپ نامی صارف نے لکھا کہ ’کیا پاکستان میں کبھی اس قسم کے فسادات نہیں ہوئے ہیں؟‘

کچھ پاکستان صارفین نے یہ بھی کہا کہ اب ان کے ووٹ بلاول کے لیے ہیں۔ اسی طرح صارف شاہد بشیر نے کہا کہ ’یہ شخص پاکستان کے لیے ایک بڑا اثاثہ ثابت ہو رہا ہے۔ انتہائی پرسکون، منجھے ہوئے، بردبار اور بہترین انداز۔ میں نے برطانیہ اور امریکہ میں بھی کسی وزیرِ خارجہ کی الفاظ پر اتنی گرفت نہیں دیکھی۔‘

bjp

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’یہ پاکستان ہے، آپ اس سے کیا توقع کر سکتے ہیں؟‘

بی جے پی نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا کہ ’ان کا تبصرہ انتہائی توہین آمیز، ہتک آمیز اور بزدلی سے بھرا ہوا ہے اور یہ صرف اقتدار میں رہنے اور (پاکستان) حکومت کو بچانے کے لیے دیا گیا ہے۔‘

اس کے ساتھ ہی جماعت کی جانب سے 17 دسمبر کو ملک کے تمام دارالحکومتوں میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا جن کے دوران اور اس کے ارکان ’پاکستان اور اس کے وزیر خارجہ کے پتلے جلائیں گے۔‘

وزیر مملکت برائے امور خارجہ میناکشی لیکھی نے بلاول بھٹو کی طرف سے نریندر مودی کو گجرات کا قصائی' پر کہا کہ پاکستان سے اس سے بہتر کچھ بھی توقع نہیں کی جا سکتی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’عام طور پر کسی بھی خودمختار ملک کے وزیر خارجہ اس طرح سے بات نہیں کرتے لیکن یہ پاکستان ہے۔ آپ اس سے کیا توقع کر سکتے ہیں؟‘

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت ایک ماہ کے لیے انڈیا کے پاس ہے۔ اس دوران بلاول بھٹو نے ’مسئلہ کشمیر‘ پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد پر عمل درآمد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ کشمیر میں امن لانے کے لیے اپنے عزم کو ثابت کریں۔‘

 وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے اقوام متحدہ میں بیان سے قبل پاکستان کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کا ذمہ دار انڈیا کو قرار دیا تھا۔

 پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اسد مجید خان نے اسلام آباد میں غیر ملکی سفارت کاروں کو ایک ڈوزیئر بھی سونپا تھا جس میں ان کے ملک میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں انڈیا کے مبینہ کردار کی تفصیل بیان کی گئی تھی۔