اننگز میں دس وکٹیں: جم لیکر اور انیل کمبلے کے ساتھ اب اعجاز پٹیل کا نام بھی لکھا جائے گا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
نیوزی لینڈ کے بائیں ہاتھ سے گیند کرنے والے سپنر اعجاز پٹیل نے انڈیا کے خلاف جاری ممبئی ٹیسٹ کے پہلے دن جب کپتان وراٹ کوہلی کو چوتھی گیند پر ہی صفر پر ایل بی ڈبلیو کیا تو یہ ان کی بہت بڑی کامیابی تصور کی جارہی تھی۔
لیکن کسے پتا تھا کہ میچ کے دوسرے دن یہی اعجاز پٹیل کرکٹ کی تاریخ کے ایک منفرد کارنامے میں اپنا نام بھی شامل کرالیں گے اور وہ بھی اسی شہر میں جہاں وہ پیدا ہوئے تھے۔
ممبئی ٹیسٹ کے دوسرے دن انڈیا کی پہلی اننگز 325 رنز پر تمام ہوئی تو اس میں حاصل ہونے والی تمام دس کی دس وکٹوں کے آگے اعجاز پٹیل کا نام درج تھا۔
اس طرح وہ ٹیسٹ میچ کی ایک اننگز میں تمام دس وکٹیں حاصل کرنے والے دنیا کے تیسرے بولر بن گئے ہیں۔
ان سے قبل انگلینڈ کے آف سپنر جم لیکر اور انڈیا کے لیگ سپنر انیل کمبلے یہ کارنامہ سرانجام دے چکے ہیں۔ تاہم اعجاز پٹیل کی یہ کارکردگی اس لیے بھی اہم ہے چونکہ وہ اپنے ملک سے باہر یہ کارنامہ کرنے والے پہلے کھلاڑی ہیں۔
اعجاز پٹیل نے سنتالیس اعشاریہ پانچ اوورز میں 119 رنز دے کر یہ 10 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ظاہر ہے یہ کارکردگی نیوزی لینڈ کے کسی بھی بولر کی سب سے بہترین کارکردگی کا نیا ریکارڈ بھی بن گئی ہے۔ اس سے قبل سر رچرڈ ہیڈلی نے نومبر 1985 میں آسٹریلیا کے خلاف برسبین ٹیسٹ کی ایک اننگز میں 52 رنز دے کر 9 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
اعجاز پٹیل کون ہیں؟
اعجاز پٹیل کا پورا نام اعجاز یونس پٹیل ہے۔ وہ 21 اکتوبر 1988 کو ممبئی میں پیدا ہوئے تھے۔ 1996 میں ان کی فیملی نے نیوزی لینڈ میں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی۔
اعجاز پٹیل ابتدا میں تیز بولنگ کیا کرتے تھے لیکن بعد میں انہوں نے سپن بولنگ کو اپنا لیا۔ ان کے کوچ دیپک پٹیل رہے ہیں جنہوں نے 1992 کے عالمی کپ میں نیوزی لینڈ کی طرف سے بولنگ کا آغاز کرکے شہرت حاصل کی تھی۔ اپنے کوچ کی طرح اعجاز پٹیل نے 30 برس کی عمر میں اکتوبر2018 میں پاکستان کے خلاف اپنے اولین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں بولنگ کا آغاز کیا تھا اور اس کے فوراً بعد ابوظہبی ہی میں وہ پاکستان کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اعجاز پٹیل کا ٹیسٹ کرکٹ میں آغاز یادگار ثابت ہوا تھا۔ اپنی پہلی اننگز میں انھوں نے پاکستانی کپتان سرفراز احمد اور بلال آصف کی وکٹیں حاصل کی تھیں۔ دوسری اننگز میں ان کی 59 رنز کے عوض 5 وکٹوں کی شاندار کارکردگی نے نیوزی لینڈ کو صرف 4 رنز کی ڈرامائی جیت سے ہمکنار کردیا تھا۔
وہ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کے چھ سال بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں آئے تھے۔
جم لیکر اور انیل کمبلے زیادہ مشہور

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اعجاز پٹیل سے قبل جن دو بولرز نے ٹیسٹ کی ایک اننگز میں دس کی دس وکٹیں حاصل کی ہیں وہ ان سے زیادہ مشہور رہے ہیں۔
انگلینڈ کے آف سپنر جم لیکر نے یہ کارنامہ جولائی 1956 میں آسٹریلیا کے خلاف اولڈ ٹریفرڈ میں انجام دیا تھا۔ انھوں نے آسٹریلیا کی پہلی اننگز میں37 رنز دے کر9 وکٹیں حاصل کیں اور پھر دوسری اننگز میں 53 رنز کے عوض آسٹریلیا کے تمام 10 بیٹسمینوں کو آؤٹ کرڈالا۔ اس طرح انہوں نے اس ٹیسٹ میچ میں 90 رنز دے کر 19 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
اس میچ میں جم لیکر کی دسترس سے باہر رہنے والی واحد وکٹ جم برک کی تھی جنھیں ٹونی لاک نے آؤٹ کیا تھا۔
انڈین لیگ سپنر انیل کمبلے نے اننگز میں دس وکٹیں فروری 1999 میں پاکستان کے خلاف دہلی ٹیسٹ میں حاصل کی تھیں۔
انیل کمبلے نے اس میچ میں پاکستان کی پہلی اننگز میں چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔ دوسری اننگز میں وہ ایک کے بعد ایک وکٹ حاصل کرتے چلے گئے اور اننگز کا اختتام 74 رنز پر10 وکٹوں کی کارکردگی پر کیا تاہم اس اننگز میں انڈین امپائر جے پرکاش کے چند فیصلے بھی تنقید کی زد میں آئے۔ کمبلے نے اپنی تمام دس وکٹیں پرکاش کے اینڈ سے بولنگ کرتے ہوئے حاصل کی تھیں۔











