شعیب اختر اور نعمان نیاز تنازع: ’گیم آن ہے‘ میں تکرار کے باعث تنازعے کے بعد شعیب اختر اور نعمان نیاز کی صلح ہو گئی ہے

shoaib and nauman

،تصویر کا ذریعہ@fawadchaudhry

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے آغاز میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر اور سرکاری ٹی وی پر ایک شو کے میزبان نعمان نیاز کے درمیان لائیو پروگرام میں لفظی تکرار اور پروگرام سے دونوں کو ہٹانے کے بعد اب دونوں کے درمیان صلح ہو گئی ہے۔

سنیچر کو وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے شعیب اختر اور نعمان نیاز کی صلح کے حوالے سے ٹویٹ کی۔

فواد چوہدری نے دونوں کی تصویر اپ لوڈ کی اور ایک شعر کے ساتھ کہا کہ’ بات اتنی نہیں تھی لیکن کیا ہے کہ سوشل میڈیا اب اتنا بڑا ہے کہ چھوٹی سی باتیں بھی بڑی ہو جاتی ہیں۔‘

پی ٹی وٹی کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو کلپ میں نعمان نیاز شعیب اختر سے معافی مانگتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ویڈیو کلپ میں نعمان نیاز کہتے ہیں کہ ’شعیب اختر میں بہت معذرت چاہتا ہوں اس کے لیے جو بھی سکرین پر ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تیس سال کی یاری ہے یار، وہ نہیں ختم ہونی چاہیے۔‘

پھر ویڈیو میں شعیب دکھائی دیتے ہیں اور وہ کہتے ہیں ’بس ٹھیک ہے سر یہ آپ کو بہت پہلے کہہ دینا چاہیے تھا‘، جس کے جواب میں نعمان کہتے ہیں ’کبھی بھی بہت دیر نہیں ہوتی۔‘ (اٹس نیور ٹو لیٹ)

شعیب اختر اور پاکستان ٹیلی وژن کے درمیان تنازع کی بنیادی وجہ 26 اکتوبر کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے شو ʹگیم آن ہےʹ کے میزبان ڈاکٹر نعمان نیاز اور شعیب اختر کے درمیان آن ایئر بحث و تکرار تھی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

پاکستان ٹیلی وژن نے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کو ہرجانے کا نوٹس بھیجا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے آن ایئر استعفے کی وجہ سے پاکستان ٹیلی وژن کو بڑے مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے۔

اس نوٹس میں شعیب اختر کی جانب سے پی ٹی وی کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔ تاہم اس کے جواب میں شعیب اختر نے پی ٹی وی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پی ٹی وی

،تصویر کا ذریعہPTV News

پروگرام میں ہوا کیا تھا؟

پی ٹی وی سپورٹس ان دنوں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ پر خصوصی نشریات کر رہا ہے جس کے میزبان ڈاکٹر نعمان نیاز تھے۔

اس پروگرام میں مہمانوں کے طور پر ویسٹ انڈیز کے سر ویوین رچرڈز اور انگلینڈ کے ڈیوڈ گاور کے علاوہ پاکستان سے شعیب اختر، راشد لطیف، اظہر محمود، عمر گل اور ثنا میر شریک تھے۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے میچ کے بعد یہ پروگرام معمول کے مطابق جاری تھا کہ اس میں نعمان نیاز اور شعیب اختر، فاسٹ بولر حارث رؤف کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اختلاف رائے کا شکار ہوئے اور اس کا اختتام شعیب اختر کے بطور احتجاج سٹوڈیو سے جانے پر ہوا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

اس تنازع کی جو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شعیب اختر فاسٹ بولر حارث رؤف کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ وہ لاہور قلندر کے 'پلیئرز ڈیولپمنٹ پروگرام' کے تحت سامنے آئے ہیں۔ جس پر نعمان نیاز ان سے کہتے ہیں کہ شاہین آفریدی پاکستان کی طرف سے کھیل چکے تھے جس پر شعیب اختر کا جواب ہوتا ہے کہ میں حارث رؤف کی بات کر رہا ہوں۔

مزید پڑھیے

شعیب اختر کو بظاہر میزبان نعمان نیاز کا ٹوکنا بُرا لگتا ہے اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ 'کوئی کام کے لیے آیا ہے' جس پر نعمان نیاز کو یہ کہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ 'آپ تھوڑے سے اکھڑ لگے، زیادہ ہوشیار لگے، لہذا آپ جا سکتے ہیں۔ میں یہ بات آن ائیر کہہ رہا ہوں۔'

نعمان نیاز نے یہ کہہ کر گفتگو کا رخ ثنا میر کی طرف موڑ لیا لیکن شعیب اختر نے انھیں روکتے ہوئے کہا 'ایکسکیوز می۔۔۔ ایکسکیوز می۔۔۔ ایکسکیوز می۔' اس موقع پر میزبان نے پروگرام میں بریک کا اعلان کیا۔

اس معاملے کی جو دوسری ویڈیو وائرل ہوئی ہے اس میں شعیب اختر بریک سے واپس آنے کے بعد یہ کہتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ 'میں پی ٹی وی سے مستعفی ہو رہا ہوں۔'

اس ویڈیو میں شعیب اختر مزید کہتے ہیں کہ 'جس طرح میرے ساتھ قومی ٹی وی پر سلوک کیا گیا، اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ مجھے یہاں بیٹھنا چاہیے۔ اس لیے میں مستعفی ہو رہا ہوں۔ شکریہ۔'

یہ کہہ کر شعیب اختر اپنا کالر مائیک اتار کر چلے جاتے ہیں۔

بعد میں شعیب اختر نے کہا کہ'نعمان نیاز کا رویہ نامناسب تھا اور انھوں نے مجھے جانے کے لیے کہا۔ مجھے نہیں معلوم کہ انھوں نے مجھ سے یہ کیوں کہا۔ انھوں نے قومی ٹی وی پر ایک قومی سٹار کی بے عزتی کی اور مجھے سائیڈ پر کر دیا۔'

تاہم نعمان نیاز نے اپنی ٹوئٹ کہا کہ 'صرف یہی کہوں گا کہ میں اور شعیب اختر ایک ساتھ بڑے ہوئے ہیں اور جو کچھ سوشل میڈیا پر سامنے آ رہا ہے وہ یکطرفہ کہانی ہے جو ظاہر ہے سب کو متوجہ کر لیتی ہے۔'

بعد ازاں پاکستانی ٹیلی ویژن نے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر اور پی ٹی وی سپورٹس کے میزبان ڈاکٹر نعمان نیاز کے معاملے کی انکوائری ٹیم نے تحقیقات مکمل ہونے تک دونوں کو آف ایئر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

شعیب اختر کو بھجوائے گئے قانونی نوٹس کا کیا ہو گا؟

ابھی یہ واضح نہیں کہ پی ٹی وی کی جانب سے فاسٹ بولر کو بھجوائے گئے نوٹس کا کیا ہوگا۔

پی ٹی وی نے نوٹس میں 10 کروڑ روپے ہرجانے کے علاوہ تین ماہ کی تنخواہ کے مساوی رقم بھی واپس کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

قانونی نوٹس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان ٹیلی وژن اور شعیب اختر کے درمیان جو معاہدہ طے پایا تھا، اس کی شق نمبر 22 میں درج ہے کہ دونوں فریق معاہدہ ختم کر سکتے ہیں تاہم اس کے لیے تین ماہ کا نوٹس دینا لازمی ہو گا یا پھر اس کے مساوی تنخواہ کی ادائیگی کرنی ہو گی۔