#Streatham: لندن کی ستریٹھم ہائی روڈ پر چاقو سے حملہ کرنے والا سودیش امان کون تھا؟

سودیش امان

،تصویر کا ذریعہMET POLICE

،تصویر کا کیپشن20 سالہ سودیش امان کو ایک ہفتہ قبل ہی دہشت گردی کے جرائم میں تین سال اور چار ماہ کی نصف سزا مکمل ہونے کے بعد رہا کیا گیا تھا

جنوبی لندن میں لوگوں پر چاقو سے حملہ کرنے والے اور بعد میں پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت کر لی گئی ہے۔

20 سالہ سودیش امان، دہشت گردی کے جرائم میں تین سال اور چار ماہ کی نصف سزا مکمل کرنے کے بعد ایک ہفتہ قبل ہی جیل سے رہا ہوا تھا۔

ستریٹھم ہائی روڈ پر پیش آنے والے اس واقعے میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے کسی کی بھی حالت تشویشناک نہیں ہے۔

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ حکومت پیر کے روز ’دہشت گردی کے جرائم میں سزا یافتہ افراد سے نمٹنے کے لیے نظام میں بنیادی تبدیلیوں‘ سے متعلق مزید منصوبوں کا اعلان کرے گی۔

یہ بھی پڑھیے

اس سے قبل اپنے ٹویٹر پیغام میں بورس جانسن نے کہا کہ ان کا دل واقعے میں زخمی ہونے والوں کے ساتھ ہے۔ انھوں نے ہنگامی سروس فراہم کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

اتوار کو دن دو بجے کے قریب ستریٹھم ہائی روڈ پر فائرنگ کی آواز سنی گئی۔ اطلاعات کے مطابق امان ایک دکان میں داخل ہوئے اور لوگوں پر چاقو سے وار کرنے شروع کر دیے۔

لندن حملہ

،تصویر کا ذریعہPA Media

سودیش امان کون ہیں؟

بی بی سی کے نمائندے ڈینئیل ڈی سمون کے مطابق نومبر 2018 میں سودیش امان پر دہشت گردوں سے متعلق معلومات پر مشتمل دستاویزات رکھنے اور دہشت گردوں کی اشاعت کو پھیلانے کے جرائم ثابت ہونے پر تین سال اور چار ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ڈینئل ڈی سمون کے مطابق وہ اس وقت عدالت میں موجود تھے اور سزا سننے پر امان کی مسکراہٹ انھیں یاد ہے۔

امان کو پہلی بار مئی 2018 میں شمالی لندن سے مسلح افسران نے دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کے شبے میں گرفتار کیا تھا۔

وہ اسی سال اپریل میں اس وقت انسداد دہشت گردی پولیس کی توجہ کا مرکز بنے جب افسران کو ٹیلی گرام میسجنگ ایپ پر پوسٹنگ کے بارے میں علم ہوا۔

ایک پوسٹ میں ایک پرچم پر چھری اور دو پستولوں کے ساتھ عربی الفاظ میں درج تھا ’مسلح اور تین اپریل تیار۔‘

لندن

،تصویر کا ذریعہDAM SIMTH

عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

عینی شاہدین کے مطابق انھوں نے گولی چلنے کی تین آوازیں سنی اور ادویات کی دکان ’بوٹس‘ کے باہر ایک شخص کو زمین پر گرا ہوا دیکھا، پولیس نے قریب موجود لوگوں کو پیچھے ہٹنے کا کہا۔

گولود بلہان نامی ایک انیس سالہ طالب علم نے بتایا کہ وہ سڑک عبور کر رہے تھے جب انھوں نے ایک شخص کو ایک تیز دار چھرے اور سینے ہر ایک چاندی کے رنگ کا کنستر باندھے بھاگتے ہوئے دیکھا۔

اس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے گولی چلنے کی تین آوازیں سنیں۔

گولود بلہان نے کہا کہ اس دوران انھوں نے بھاگ کر قریبی لائبریری میں جان بچائی جبکہ باہر سے پولیس اور ایمبولینسوں کے وہاں پہنچنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔

لندن کی ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مناسب طبی عملہ اور وسائل لگا دیے ہیں۔

ایک شخص نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ سٹریتھم کے علاقے میں کچھ بڑا ہو رہا ہے پولیس نے تمام سڑکیں بند کر دی ہیں۔

بی بی سی کے صحافی سٹیفن پاول نے اس علاقے سے اطلاع دی کہ ہر طرف مسلح پولیس اہلکار موجود ہیں جو مقامی لوگوں کو اپنے گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس ہیلی کاپٹر علاقے کی نگرانی اور پورے علاقے میں بے شمار پولیس والے گلیوں میں گشت کر رہے تھے۔