سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان میں ایک دن کی تاخیر

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق سعودی ولی عہد کے وفد کے ارکان کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوزارت خارجہ نے اپنی پریس ریلیز میں دورے میں تاخیر کی وجہ بیان نہیں کی ہے

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان میں ایک روز کی تاخیر ہوگئی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک پریس ریلیز میں سعودی ولی عہد کے دورے میں تاخیر کا اعلان کیا ہے تاہم اس کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 17 اور 18 فروری کو پاکستان کے دورے پر ہوں گے اور یہ کہ ان کی آمد پر طے شدہ پروگرامز میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو 16 فروری کو دو روزہ دورے پر پاکستان آنا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

معاہدوں کی توقعات

امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کے مطابق اس دورے پر سعودی ولی عہد کم از کم 12 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے متعلق معاہدوں پر دستخط کریں گے جس میں تیل کی ریفائینری کے قیام اور تیل کی برآمد میں تاخیری ادائیگیاں شامل ہوں گی۔

جن شعبوں میں سعودی سرمایہ کاری متوقع ہے اس میں تیل کی پیداوار کے علاوہ کان کنی کی صنعت، معدنیات، اور تونائی کی پیداوار شامل ہیں۔

سعودی خبر رساں ادارے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ اطلاعات غلام سرور نے بتایا کہ محمد بن سلمان کے دورے کے دوران پاکستانی شہر گوادر میں سعودی کمپنی آرامکو کے ایک جدید ترین پیٹروکیمکل کامپلیکس بنانے کے حوالے سے معاہدوں پر بھی دستخط کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ اخبار خلیج ٹائمز سے بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں فیوچرسٹک شہر نیوم کی تعمیر کے لیے پاکستان افرادی قوت بھی فراہم کرے گا۔ نیوم سٹی کا اعلان محمد بن سلمان نے گذشتہ سال کیا تھا اور 500 ارب ڈالر کی مدد سے یہ ایک جدید ترین شہر تعمیر کیا جائے گا جس کی تعمیر سنہ 2025 تک مکمل ہونا ہے۔

شہزادے کی آمد پر سکیورٹی انتظامات

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ شہزادہ محمد بن سلمان اور ان کے وفد میں شامل افراد کی سکیورٹی کے لیے چار سطح پر مشتمل سکیورٹی پلان ترتیب دیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق سعودی ولی عہد کی سکیورٹی کے لیے تین ہزار سے زیادہ اہلکار تعینات ہوں گے۔

پنجاب پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان سے پہلے ان کے زیر استعمال دس سے زیادہ بلٹ پروف گاڑیاں بھی اسلام آباد پہنچا دی گئی ہیں جبکہ ان کی سکیورٹی پر تعینات ایک سو سے زیادہ گارڈز بھی پاکستان پہنچ چکے ہیں۔