ثنا چیمہ کیس: گجرات کی عدالت نے ثبوت نہ ہونے پر ملزمان کو بری کر دیا

صوبہ پنجاب کے شہر گجرات کی ایک مقامی عدالت نے پاکستانی نژاد اطالوی خاتون کے قتل کے مقدمے میں نامزد ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا ہے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت کا کہنا ہے کہ قتل کے اس مقدمے کی سماعت کے دوران ایسے شواہد عدالت میں پیش نہیں کیے گئے جو ملزمان کو مجرم ثابت کرسکیں۔
ثنا چیمہ کو گزشتہ برس اپریل میں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کردیا گیا تھا۔ اس وقت مبینہ طور پر مقامی پولیس اس واقعہ سے متعلق مقدمے کے انداراج میں لیت ولعل سے کام لیتے رہے تاہم حکام کے مطابق پاکستان میں اطالوی سفارت خانے کی مداخلت اور میڈیا میں اس واقعہ سے شائع ہونے والی خبروں کے بعد ثنا چیمہ کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہSocial Media
اس واقعہ سے متعلق مقامی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’ثنا چیمہ کے والدین نے اُنھیں اٹلی سے پاکستان بلایا تھا اور وہ اپنی بیٹی کی شادی ان کی مرضی کے خلاف کرنا چاہتے تھے جس سے انکار پر انھیں قتل کردیا گیا تھا اور بعدازاں ان کی موت کو حادثہ قرار دے کر انھیں دفنا دیا تھا۔ ‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس نے مقتولہ کے والد مصطفیٰ چیمہ، چچا مظہر چیمہ اور بھائی عدنان چیمہ کے خلاف مقدمہ درج کرکے اُنھیں گرفتار کیا تطا اور یہ مقدمہ پولیس کی مدعیت میں ہی درج کیا گیا تھا۔
اس مقدمے کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر فرقان چیمہ کے مطابق مقتولہ ثنا کی قبر کشائی کے بعد جو پوسٹ مارٹم رپورٹ آئی تھی اس میں کہا گیا تھا کہ ثنا چیمہ کی موت گردن کی ہڈی ٹوٹنے سے ہوئی تھی جبکہ ملزم مصطفیٰ چیمہ کا دوران تفتیش موقف تھا کہ ان کی ’بیٹی گھر میں گر گئی تھی جس کی وجہ سے اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔‘
پولیس نے اس مقدمے میں ثنا چیمہ کی والدہ کو بھی شامل تفتیش کیا تھا لیکن ان کے خلاف کوئی شواہد سامنے نہیں آئے تھے۔ مقامی پولیس کے مطابق اس مقدمے کی تفتیش کے دوران ثنا چیمہ کے چچا مظہر اقبال چیمہ کو بھی بےگناہ قرار دیکر چھوڑ دیا گیا تھا۔
جمعے کو گجرات کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج امیر مختار گوندل نے اس مقدمے میں پیش کیے جانے والے گواہوں کے بیانات اور ثبوتوں کو سامنے رکھتے ہوئے تمام ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا۔








