مائیک پومپے: جنوبی ایشیا میں تمام عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف بلاتفریق کارروائی ہونی چاہیے

مائک پومپے وزارتِ خارجہ سنبھالنے سے قبل سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائض تھے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمائک پومپے وزارتِ خارجہ سنبھالنے سے قبل سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائض تھے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپے نے ایک مرتبہ پھر پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں تمام دہشتگرد تنظیموں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوئرٹ کے دفتر سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ مائک پومپے نے بدھ کے روز پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فون پر بات کی۔

جس میں انھوں نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری لانے کے طریقہِ کار، افغانستان میں سیاسی اتفاقِ رائے کی اہمیت کے بارے میں بات چیت کی اور جنوبی ایشیا میں تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بلا تفریق کارروائی پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیے

خیال کیا جارہا ہے کہ ان کا اشارہ افغانستان میں کارروائیاں کرنے والے طالبان گروہوں بشمول حقانی نیٹ ورک کی جانب ہے جنھیں امریکی دعوؤں کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پناہ دی جاتی ہے۔

واشنگٹن سے نامہ نگار ارم عباسی کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطح کی یہ بات جیت ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب گذشتہ ماہ ایک دوسرے کے سفارتکاروں پر سفری پابندیوں کے سبب امریکہ اور پاکستان کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔

مائک پومپے نے حال ہی میں امریکی رکن پارلیمان کو بتایا ہے کہ پاکستان میں امریکی سفارتکاروں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جا رہا۔

اس سے پہلے امریکہ نے پاکستان کو دی جانے فوجی امداد روکنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ نے الزام لگایا کہ پاکستان انتہا پنسدوں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا کر رہا ہے جبکہ پاکستان ان تمام الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

سال 2018 کا آغاز ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹیوٹ کے ذریعے کہا تھا کہ پاکستان امریکی سیاستدانوں کو بیوقف بناتا آیا ہے اور امریکہ نے انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے پاکستان کو اربوں ڈالر کی امداد دی ہے۔ اور پاکستان انہی انتہا پسندوں کو محفوظ پنہاہ گاہیں مہیا کر رہا ہے۔