لودھراں کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کی غیر متوقع کامیابی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلعے لودھراں میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 154 میں ہونے والا ضمنی انتخاب غیر متوقع طور پر مسلم لیگ ن نے جیت لیا ہے۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق غیرحتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے امیدوار پیر اقبال شاہ نے پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین کو 25 ہزار سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے شکست دی ہے۔
مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف نے لودھراں کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کی غیر متوقع کامیابی کو احتساب کے نام پر انتقام کا عوامی جواب قرار دیا جبکہ عمران خان نے اپنی جماعت کی شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکست زیادہ مضبوطی سے ابھرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
یہ نشست گذشتہ دسمبر میں جہانگیر ترین کی سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت نااہلی کے بعد ہی خالی ہوئی تھی۔ وہ سنہ 2015 میں اس نشست سے 40 ہزار ووٹ کی اکثریت سے جیتے تھے۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس الیکشن میں ووٹ ڈالنے کی شرح 52 فیصد رہی اور غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اقبال شاہ نے اس الیکشن میں ایک لاکھ 13 ہزار 827 ووٹ حاصل کیے جبکہ پی ٹی آئی کے علی ترین 87 ہزار 571 ووٹ حاصل کر سکے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
تحریک لبیک پاکستان کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ملک اظہر 11 ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے تیسرے نمبر پر رہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مرزا علی بیگ 3762 ووٹ ہی لے سکے۔
اسلام آباد میں احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ لودھراں کا ضمنی انتخاب احتساب کے نام پر انتقام کا عوامی جواب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام اب ووٹ کے تقدس کو پہچاننے لگے ہیں جس کی واضح مثال لودھراں کا ضمنی انتخاب ہے۔
مریم نواز نے بھی ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کی کامیابی کے بعد ٹویٹر پر خوشی کا اظہار کیا۔ مریم نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ الیکشن 2018 کے لیے سٹیج سج گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے شکست تسلیم کرتے اپنے افسردہ کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکست اپنی غلطی کا تجزیہ کر کے اُسے درست کرنے اور زیادہ مضبوط بننے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ کامیاب افراد، ادارے اور ملک اپنی ناکامیوں سے سبق سکھتے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
خیال رہے کہ لودھراں کے اس حلقے میں یہ چار برسوں میں ہونے والا تیسرا انتخاب تھا۔
2013 کے عام انتخابات میں اس سیٹ پر صدیق بلوچ نے بطور آزاد امیدوار کامیابی حاصل کی تھی تاہم جعلی ڈگری ہونے کے باعث 2015 میں جہانگیر ترین کی درخواست پر الیکشن ٹربیونل نے انھیں نااہل کر دیا تھا۔
2015 کے ضمنی انتخاب میں جہانگیر ترین کامیاب رہے تھے مگر وہ گذشتہ برس دسمبر میں آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیے گئے تھے۔









