تھائی ماڈل کا ٹوٹی سڑک پر ’احتجاجی غسل‘

،تصویر کا ذریعہHA GAREANG FACEBOOK

اگر آپ کے قریبی علاقوں کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں اور انھیں ٹھیک کرنے کے لیے کام نہیں کیا جا رہا، تو آپ کے خیال میں اس طرف توجہ دلانے کا بہترین طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟

حکام کو خط لکھنا؟ سوشل میڈیا پر شکایت کرنا؟ یا پھر احتجاجاً ان گڑھوں میں بیٹھ کر غسل کرنا؟

بینکاک کی ایک مقامی ماڈل پالم نے کچھ ایسا ہی کرنے کا ارادہ کیا جب وہ تھائی لینڈ کے صوبے تاک کے ضلع رائی رمات میں ان کے رشتہ داروں کے گھر کے راستے والی روڈ پر موجود گڑھوں سے تنگ آگئیں۔

انھوں نے سر پر نہانے والی ٹوپی پہنی اور سڑک پر حادثات کی وجہ بننے والے ان گڑھوں میں سے ایک میں ’احتجاجی غسل‘ کیا۔

،تصویر کا ذریعہHA GAREANG FACEBOOK

اس کے بعد ان کے اس احتجاج کی تصاویر چین اور تھائی لینڈ میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بڑے پیمانے پر شائع کی جانے لگی۔ جس سے دیگر افراد بھی متاثر ہوئے اور انھوں نے بھی مقامی سڑکوں کی جانب حکومت کی توجہ دلانے کے لیے ایسا ہی کرنا شروع کر دیا۔

مشرقی تھائی لینڈ میں صوبے کھون کیئن میں بوڑھی خواتین نے جمع ہو کر گروہ کی صورت میں گڑھوں میں کھڑے پانی میں غسل کیا۔

ان کو شکایت ہے کہ حکومت نے ان سڑکوں کی گذشتہ 30 سالوں سے مرمت نہیں کی ہے۔ تاہم حکومت نے برساتی موسم کے فوراً بعد ان سڑکوں کی مرمت کروانے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSINOVISION

ماڈل پالم کے اس احتجاج سے لگتا ہے کہ تبدیلی آنے والی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق تاک صوبے کے گورنر نے حکم جاری کیا ہے کہ اس سڑکوں کی مرمت بلاتاخیر شروع کی جائے۔ جبکہ بعض نئی تصاویر جو کہ فیس بک پر شائع کی گئی ہیں انھیں دیکھ کے معلوم ہوتا ہے کہ تعمیراتی کام شروع کر دیا گیا ہے۔

ایک جرمن انجینیئر پیٹر گومن کی تھائی بیوی کوسوماکا کہنا ہے کہ ’اکثر اوقات موٹر سائیکل سوار ان گڑھوں میں گر جاتے ہیں اور قریبی رہائیشیوں کو بھاگ کر ان کی مدد کرنا پڑتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہWeibo

رضاکارانہ طور پر ان سڑکوں کی مرمت کے لیے بھی اس جوڑے نے اس پر آنے والے اخراجات میں شریک ہونے کا کہا ہے۔

تاہم صرف تھائی لینڈ ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک میں بھی لوگوں کو ایسے مسائل درپیش ہیں۔

جیسے کہ گذشتہ سال انڈیا میں ایک فنکار بادل ننجوندا سوامی نے سڑکوں پر بنے گڑھوں سے تنگ آکر ان میں احتجاجاً ایک بڑا مگر مچھ بنایا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP