لاپتہ نایاب افریقی پینگوئن کی تلاش جاری

،تصویر کا ذریعہepa
معدومی کے خطرے سے دوچار افریقی پینگوئن کی نسل کے اس لاپتہ پینگوئن کی تلاش جاری ہے جسے دو طالب علموں نے ’رہا‘ کر کے چھوڑ دیا تھا۔
’بڈی‘ نامی پینگوئن کو دو طالب علموں نے جنوبی افریقہ کے ایک سمندری پارک سے چوری کیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسا جانوروں کی قید کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا تھا۔
لیکن بڈی اسی سمندری پارک میں پیدا ہوا تھا اور وہ آزاد زندگی کے طور طریقوں سے واقف نہیں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پینگوئن کھائے بغیر دو ہفتوں تک زندہ رہ سکتا ہے جس کے بعد وہ بھوکا مر جائے گا۔
پورٹ ایلزبتھ میں ’بے ورلڈ‘ کے مینیجر ڈلن بیلی کا کہنا ہے کہ ’بڈی آزاد دنیا میں رہنے کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ اسے بالکل نہیں پتہ ہوگا کہ وہ کہاں ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’خوش قسمتی سے وہ ایک صحت مند پینگوئن ہے، بلکہ کافی موٹا تازہ، اس لیے وہ کچھ ہفتوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔‘
پارک کے اندازے کے مطابق بڈی زیادہ سے زیادہ تین ہفتے تک ہی زندہ رہ پائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

بڈی کے لاپتہ ہونے کی خبر اسے چوری کیے جانے کے ایک دن بعد آئی جب اسے اس کا طبی معائنہ کروانے کے لیے ڈھونڈا گیا اور وہ نہیں ملا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج سے پتہ چلا کہ دو طالب علموں نے پارک میں پانی میں جا کر بڈی کو پکڑ کر اپنی گاڑی میں ڈال دیا۔ اس کے بعد انھوں نے سمندر کے پاس جا کر پینگوئن کو گاڑی سے نکال کر چھوڑ دیا۔
ڈلن بیلی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ طالب علموں کا بڈی کو نقصان پہچانے کا مقصد نہیں ہو گا لیکن ان کی اس حرکت کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
پکڑے جانے سے پہلے بڈی اپنی ساتھی مادہ پینگوئن فرانسس کے ساتھ اپنے دو چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کر رہا تھا۔
بڈی کے جانے کے بعد اس کا ایک بچہ مر چکا ہے لیکن پارک کے اہلکار یہ نہیں بتا سکتے کہ آیا بچہ اپنے والد کی غیر موجودگی کی وجہ سے مرا ہے۔
بڈی کی ساتھی فرانسس اب اپنا گھونسلا چھوڑ کر نہیں جا سکتی کیونکہ بچوں کا خیال رکھنے کے لیے بڈی موجود نہیں ہے۔
افریقی پینگوئن جانوروں کی اس فہرست میں شامل ہے جن کی نسلیں معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔
دنیا میں پینگوئن کے 20 ہزار سے بھی کم جوڑے موجود ہیں۔







