حلب میں فضائی حملوں سے حالات انتہائي تشویشناک

علاقے میں بمباری کے بعد حلب کا ایک خاندان وہاں سے جان بچا کر بھاگتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنعلاقے میں بمباری کے بعد حلب کا ایک خاندان وہاں سے جان بچا کر بھاگتے ہوئے

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شام کے شہر حلب میں جاری شدید لڑائی کی صورت حال سے بان کی مون خود دہشت میں ہیں۔

سکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفین دوجیرک کا کہنا تھا کہ حلب میں آتشگیر ہتھیاروں اور بنکر تباہ کرنے والے بموں کے استعمال کی خبروں سے سے بان کی مون پریشان ہیں۔

گذشتہ ہفتے جنگ بندی کا معاہدہ ٹوٹنے کے بعد سے شام کی حکومت نے حلب پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں اب تک 45 عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

موجودہ صورتحال پر بات چیت کے لیے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے اتوار کو ایک اجلاس طلب کیا ہے جس میں امریکہ برطانیہ اور فرانس شرکت کریں گے۔

گذشتہ ہفتے جنگ بندی کا معاہدہ ٹوٹنے کے بعد سے شام کی حکومت نے حلب پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنگذشتہ ہفتے جنگ بندی کا معاہدہ ٹوٹنے کے بعد سے شام کی حکومت نے حلب پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں

بان کی مون کے ترجمان دوجیرک نے ایک بیان میں کہا ’دو روز قبل جب شام کی فوج نے مشرقی حلب کے علاقے پر قبضے کے لیے حملے شروع کیے تبھی سے وہاں سے آتشگیر ہتھیاروں اور بنکر تباہ کرنے والے بموں سے لیس فضائی حملوں کی خبریں آتی رہی ہیں۔‘

بیان کے مطابق بان کی مون کا کہنا تھا کہ عام شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے جو بین القوامی عزم ہے اس کے لیے یہ ایک سیاہ دن ہے۔

ادھر شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم کا کہنا ہے کہ شام کی فوجیں دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ واضح رہے کہ شام کی حکومت صدر بشار الاسد کے خلاف تمام باغیوں کو دہشت گرد تصور کرتی ہے۔

نیویارک میں انھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسبملی سے اپنے خطاب میں کہا انھیں پہلے کے مقابلے میں اب فتح کا زیادہ امکان لگ رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں اب تک 45 عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق ان حملوں میں اب تک 45 عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شامی فوج کے حملوں کی وجہ سے حلب کے تقریباً 20 لاکھ افراد کو اس وقت پانی کی رسدمیسر نہیں۔

اس کے مطابق حلب کے بیشتر علاقے میں پانی کی قلت ہے اور اب بیشتر افراد آلودہ پانی پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں جس سے انھیں شدید بیماریوں کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

بچوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق جمعے کو ہونے والی بمباری کے باعث باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے میں پانی فراہم کرنے والے پمپ سٹیشن کی مرمت نہیں کی جاسکی۔

یونیسف کا کہنا ہے کہ شہر میں موجود پانی نکالنے والا دوسرا پمپ بھی بند ہے۔

یونیسف کے مطابق جمعے کو ہونے والی بمباری کے باعث باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے میں پانی فراہم کرنے والے پمپ سٹیشن کی مرمت نہیں کی جاسکی۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیونیسف کے مطابق جمعے کو ہونے والی بمباری کے باعث باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے میں پانی فراہم کرنے والے پمپ سٹیشن کی مرمت نہیں کی جاسکی۔

ادارے کے ڈپٹی ڈائکٹر جسٹن فورتھسائٹ کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ حلب آہستہ آہستہ مر رہا ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے، تازہ ترین غیر انسانی حرکت یہاں بمباری اور لوگوں کا پانی بند کرنا ہے۔‘

شام کی فوج کی جانب سے بمباری میں سنیچر کو مزید 25 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ گذشتہ روز 45 افراد مارے گئے تھے۔

کارکنان کا کہنا ہے کہ حلب پر بمباری کے لیے روس اور شام کے جنگی طیارے مشترکہ طور پر کارروائی کر رہے ہیں لیکن روس نے اس کارروائی میں اپنی شملیت کے متعلق کچھ بھی نہیں کہا ہے۔