نیویارک میں ایک ہزار اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی ریاست نیویارک کے گورنر اینڈیو کومو کا کہنا ہے کہ نیویارک شہر میں ہونے والا دھماکہ دہشت گردی کی کارروائی تھا تاہم تاحال اس میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔
امریکہ میں حکام کے مطابق سنیچر کی رات نیویارک سٹی میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم سے کم 29 افراد زخمی ہوئے تھے۔
گورنر کومو کا کہنا تھا کہ دھماکے سے واضح نقصان ہوا ہے اور ’ہم خوش قسمت ہیں کہ کوئی جان ضائع نہیں ہوئی۔‘
اینڈریو کومو کے مطابق شہر کے اہم مقامات پر ایک ہزار اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جس کسی نے بھی یہ بم رکھے ہیں، ہم انھیں ڈھونڈ لیں گے اور انھیں انصاف کے کٹہرے تک پہنچایا جائے گا۔‘
اس سے قبل نیویارک کے میئر نے اسے ’دانستہ کارروائی‘ سے تعبیر کیا تھا۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے چند بلاک کے فاصلے پر ایک دوسری مشتبہ چیز کی تفتیش بھی کی جبکہ امریکی میڈیا کا کہنا تھا کہ یہ مشتبہ شے ایک پریشر کوکر ہے جس سے کئی برقی تاریں اور ایک موبائل فون منسلک تھا۔

،تصویر کا ذریعہAP
نیویارک کے میئر بل دا بلیسیو کا کہنا تھا کہ ’نیو یارک کے علاقے چیلسی میں ہونے والا دھماکہ دانستہ کارروائی تھا۔‘ تاہم انھوں نے کہا ہے کہ اس کا یا پھر اس سے قبل پڑوسی نیو جرسی میں ہونے والے دھماکے کا کسی دہشت گرد گروپ سے کوئی تعلق نہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ نیوجرسی میں ہونے والا دھماکہ ایک فوجی خیر سگالی کے سلسلے میں منعقد کی گئی ایک ریس کے متعین راستے پر ہوا تھا۔
امدادی کارکنوں کے مطابق نیویارک میں ہونے والے دھماکے میں زخمیوں میں سے ایک کے علاوہ کسی کی بھی حالت تشویش ناک نہیں ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ رہائشی علاقے کے قریب ہوا اور اس کی آواز کافی بلند تھی اور دھماکے کے بعد لوگ یہاں وہاں بھاگتے دکھائی دیے۔
اس واقعے سے قبل سنیچر کی صبح ہمسایہ ریاست نیو جرسی میں ایک پائپ بم کا دھماکہ ہوا جہاں ایک فلاحی ادارے کی جانب سے منعقدہ دوڑ میں ہزاروں افراد شریک تھے۔ تاہم یہ ریس کسی اور سیکیورٹی خدشے کی وجہ سے تاخیر کا سکار تھی اور اس دھماکے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔







