مس جاپان عوامی رائے بدلنے کی خواہاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جاپان میں مقابلۂ حسن جیتنے والی انڈین نژاد ملکۂ حسن پرینکا یوشیکاوا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اس کامیابی کو لوگوں کے خیالات تبدیل کرنے کے لیے استعمال کریں گی۔
22 سالہ پرینکا کو منگل کو 2016 کی مس جاپان کا خطاب دیا گیا ہے اور یہ لگاتار دوسرا سال ہے کہ کسی مخلوط النسل خاتون نے جاپان کے مقابلۂ حسن میں کامیابی حاصل کی ہے۔
گذشتہ برس جاپان کی تاریخ میں اریانا میاماتو یہ خطاب جیتنے والی پہلی مخلوط النسل خاتون بنی تھیں اور ان کی کامیابی پر ناقدین نے کہا تھا کہ یہ خطاب کسی ایسی لڑکی کو ہی ملنا چاہیے جس کے والدین جاپانی ہوں۔
خیال رہے کہ جاپان میں ہر برس صرف دو فیصد ہی مخلوط النسل بچے پیدا ہوتے ہیں جنھیں مقامی زبان میں ’ہافو‘ یعنی نصف کہا جاتا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے یوشیکاوا نے کہا کہ ’ہم جاپانی ہیں۔ ہاں میرے والد انڈین ہیں اور مجھے اس پر فخر ہے۔ مجھے اس پر بھی فخر ہے کہ مجھ میں ہندوستانیت ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں جاپانی نہیں ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اپنی جیت پر پرینکا نے اپنی جیت کا سہرا میاماتو کو یہ کہہ کر دیا کہ انھوں نے ہی مخلوط نسل کی لڑکیوں کو راستہ دکھانے میں مدد کی تھی۔
ان کا کہنا تھا: ’اریانا سے قبل ہافو لڑکیاں جاپان کی نمائندگی ہی نہیں کر سکیں۔ یہی میں نے بھی سوچا۔ اریانا نے ہمیں اور دوسری تمام مشترکہ نسل کی لڑکیوں کو راستہ دکھا کر ہماری حوصلہ افزائی کی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں بہت سی ایسی لڑکیوں کو جانتی ہوں جو ہافو ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں۔ جب میں جاپان واپس آئی تو سب کو یہ لگا جیسے میں کوئی جرثومہ ہوں۔ جیسے مجھے چھونے سے وہ کوئی خراب چیز چھو رہے ہوں۔ لیکن میں شکر گزرا ہوں کیونکہ اسی نے مجھے قوت بھی بخشی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پرینکا ہاتھیوں کی تربیت کی مہارت کے ساتھ ساتھ شوقیہ باکسر بھی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کا کہنا ہے کہ ’جب میں ملک سے باہر ہوتی ہوں تو مجھ سے کوئی نسل کے بارے میں نہیں پوچھتا ہے۔ توقع ہے کہ مس جاپان کی حیثیت سے میں لوگوں کے خیالات کو تبدیل کر سکوں تاکہ یہاں بھی وہی ماحول پنپ سکے۔‘
پرینکا کے مس جاپان کا مقابلہ جیتنے پر ویسا ہنگامہ نہیں ہوا جو پہلی بار اریانا کے مس جاپان بننے ہو پر ہوا تھا۔ لیکن کئی لوگوں نے پھر بھی اس نہ خوشی کا اظہار کیا تھا۔
سوشل میڈیا پر ایک شخص نے لکھا: ’یہ ایسا ہی کہنے کے برابر ہے کہ جیسے اصلی جاپانی چہرہ جیتنے کے قابل ہی نہیں ہے۔‘
ایک دوسرے شخص نے تبصرہ کیا: ’اب خوبصورتی کا خطاب رکھنے کا مقصد ہی کیا بچا؟ قومی خصوصیات تو صفر ہیں۔‘







