’پاکستان میں کرکٹ حنیف محمد کے دم سے ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی نے لٹل ماسٹر حنیف محمد کو جمعہ کے روز خراج تحسین پیش کیا۔ یہ کرکٹر اپنے ساتھی کی نمازہ جنازہ اور تدفین میں شرکت کرنے آئے تھے۔
سابق وکٹ کیپر وسیم باری نے بتایا کہ ان کی حنیف محمد سے پہلی بار ملاقات 1965 میں اس وقت ہوئی تھی جب وزیر احمد نے انھیں بطور وکٹ کیپر متعارف کرایا تھا۔ حنیف محمد نے وزیر احمد سے کہا :’ایسا کونسا وکٹ کیپر ہے جس کو وہ نہیں پہچانتے ۔‘
’1967 کے دورے پر جب میں پہلی بار انگلینڈ گیا حنیف محمد نے مجھے ڈائیونگ سکھائی۔ وہ خود بھی بہت اچھے وکٹ کیپر تھے اور ابھرتے کرکٹر کی ہمت افزائی کرتے تھے ۔ظہیر عباس، جاوید میانداد ، مشتاق احمد اور صادق محمد کے ابھرنے میں ان کا بڑا کردار تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
وسیم باری کا حنیف محمد کے ساتھ 25 سال کا تعلق رہا۔ ان کے بقول انھوں نے کبھی اونچی آواز میں بات نہیں کی۔’انھیں کرکٹ کی بہت معلومات تھی لیکن وہ اس کو اپنے تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ دوسروں تک پہنچاتے تھے۔‘
نامور کرکٹ ظہیر عباس کا کہنا تھا کہ حنیف محمد نے جو اصول دیے ان کی پیروی کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت وکٹ پر کھڑے ہونے کی کرکٹ ہوتی تھی، انھوں نے سولہ سولہ گھنٹے بیٹنگ کی اور 499 سکور کیا اور یہ سب انھوں نے اس وقت کیا ہے جب پاکستان نیا نیا آئی سی سی کا ممبر بنا تھا۔‘
’ پاکستان کا نام اونچا کرنے والے تو وہی ہیں۔ ان کے ہی دم سے اس ملک میں کرکٹ دائم و قائم تھی۔‘
پاکستان کے سابق عظیم بیٹسمین جاوید میانداد کا کہنا تھا کہ حنیف محمد اس دور میں کھیلے جب کوئی سہولیات نہیں ہوتی تھیں اس کے باوجود وہ جس طرح بالر کا مقابلہ کرتے تھے اس کی وجہ ان کی سوچ و خیال میں یکسوئی تھی۔
’انھیں لٹل ماسٹر اس لیے کہا جاتا تھا کہ چھوٹے قد کے باوجود وہ دنیا کے بڑے بڑے کرکٹر کا مقابلہ کرتے تھے اور ان کرکٹرز کو ان کے ملکوں میں تمام سہولیات فراہم تھی۔ایک بال کھیلنے کے بعد وہ سمجھ جاتے تھے کس طرح اور کہاں کھیلنا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

جاوید میانداد کے مطابق محمد برادرز نے کرکٹ عقل سے کھیلی ۔ ٹیلنٹ اپنی جگہ لیکن کرکٹ دماغ سے کھیلی جاتی ہے۔‘
آفتاب بلوچ نے حنیف محمد کے ساتھ کھیلا وہ پی آئی اے کی ٹیم میں کپتان اور حنیف محمد کوچ رہے۔ ان کے بقول حنیف محمد ارادے کے پختہ تھے اگر وہ سوچ لیتے تھے کہ ا نھوں نے یہ کرنا ہے تو وہ کر گذرتے اور یہ سوچ کر ہی میدان میں اترتے۔’ وہ نہ صرف خود کھیلتے بلکہ دوسروں کو بھی کھلاتے تھے۔‘







