مگرمچھ کے حملے میں کشتی ناکارہ سے جزیرے پر محصور

،تصویر کا ذریعہAP
آسٹریلیا میں مگر مچھ کے حملے میں کشتی ناکارہ ہونے کے بعد ایک جزیرے پر تین دن تک پھنس جانے والے شخص کو امدادی کارکنوں نے بچا لیا ہے۔
کوئنز لینڈ کے ایک جزیرے میں اس شخص نے گذشتہ تین روز پر پناہ لے رکھی تھی۔
حکام کے مطابق اس شخص کا کہنا ہے کہ اس نے مگرمچھ کا حملہ ناکام بنانے کے بعد’ٹاونشینڈ‘ نامی جزیرے کا رخ کیا تھا اور وہ تین روز سے وہیں تھا۔
آسٹریلوی حکام نے بتایا ہے کہ امدادی کارکنوں نے اس شخص کو ہیلی کاپٹر کی مدد سے جزیرے سے ریسکیو کیا ہے۔
ملک کی بحری سیفٹی اتھارٹی کے ترجمان نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ’یہ شخص بہت خوش قسمت تھا کہ کشتی کے مکمل طور پر ناکارہ ہونے سے قبل وہ جزیرے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔‘
خراب موسم کے باعث یہ شخص تین روز سے جزیرے پر محصور تھا۔
حکام کے بقول متاثرہ شخص کی جانب سے روشنی کا گولا چلانے پر امدادی کارکن اس تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
خیال رہے کہ آسٹریلیا میں پائے جانے والے مگرمچھوں کا شمار جسامت کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے مگرمچھوں میں ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 1971 سے ملک میں ان کے شکار پر پابندی ہے جس کی وجہ سے ان کی تعداد میں کافی اضافہ ہوگیا ہے۔







