214 امریکی قیدیوں کی سزا میں کمی

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی صدر براک اوباما نے ملک کی جیلوں میں قید 214 قیدیوں کی سزا کی مدت میں کمی کی منظوری دے دی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ سو برس میں کسی امریکی صدر کی جانب سے دی جانے والی سب سے بڑی معافی ہے۔
اس فیصلے سے فائدہ اٹھانے والوں میں زیادہ تر افراد کو منشیات رکھنے یا اس کی خریدوفروخت کے الزامات کے تحت سزا ہوئی تھی۔
حکام کے مطابق براک اوباما بطور صدر اب تک کل 562 لوگوں کی سزا میں کمی کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ تعداد ان سے پہلے نو صدور کی جانب سے معاف کیے جانے والے افراد کی کل تعداد سے زیادہ ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اپنے سرکاری ٹوئٹر ہینڈل میں کہا ہے کہ امریکہ ایسا ملک ہے جہاں لوگوں کو دوسرا موقع دیا جاتا ہے۔
ایک بیان میں وائٹ ہاؤس نے کہا کہ صدر نے یہ فیصلہ یہ دیکھ کر کیا کہ منشیات سے منسلک عدم تشدد کے معاملات میں پرانے اور ضرورت سے زیادہ سخت قانون کے تحت سزا دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
جن لوگوں کی سزا میں کمی کی گئی ہے ان میں 67 لوگ ایسے ہیں جو عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
ان تمام قیدیوں کو فوری طور پر رہا نہیں کیا جائے گا۔ کچھ قیدیوں کی سزا موجودہ کے قانون کے مطابق کم کر دی جائے گی، جبکہ دیگر کو پہلے نشے سے چھٹکارے کا پروگرام مکمل کرنا ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اوباما نے ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ چند ماہ پہلے انھیں فلوریڈا سے شرمن چیسٹر نام کے ایک شخص کے خط ملی تھی جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ انھوں نے زندگی میں کچھ غلط فیصلے کیے اور اب انھیں ایک نشے کے الزام میں عمر قید کی سزا ملی ہے۔
شرمن کو سزا دیتے ہوئے جج نے کہا تھا کہ انھیں یقین نہیں ہے کہ قانون کے تحت انہیں ایسی سزا دینی پڑ رہی ہے جو جرم کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
اوباما نے لکھا کہ گذشتہ 9 صدور نے کل ملا کر جتنے لوگوں کی سزا معاف کیا ہے انھوں نے اس سے زیادہ لوگوں کو جینے کا دوسرا موقع دیا ہے، اور وہ ایسا کرتے رہیں گے۔







