چرچ پر حملہ کرنے والے ’دولتِ اسلامیہ کی ویڈیو میں‘

عادل کمریکی کے گلے میں پولیس کی نگرانی کے لیے موجود ایک مخصوص ٹیگ حملے کے وقت سلیپ موڈ پر تھا

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK

،تصویر کا کیپشنعادل کمریکی کے گلے میں پولیس کی نگرانی کے لیے موجود ایک مخصوص ٹیگ حملے کے وقت سلیپ موڈ پر تھا

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی ایک غیر تصدیق شدہ ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں فرانس کے ایک پادری کو ہلاک کرنے والے دونوں افراد دولتِ اسلامیہ سے وفاداری کا عہد کر رہے ہیں۔

یہ دونوں افراد عربی زبان بول رہے ہیں اور دولتِ اسلامیہ کے امیر ابو بکر البغدادی کا حوالہ دے رہے ہیں۔ ان میں سے ایک نے ایک صفحہ پکڑ رکھا ہے جس پر دولتِ اسلامیہ کے جھنڈے کا پرنٹ ہے۔

خیال رہے کہ منگل کو ایک گرجا گھر پر حملے میں دو افراد نے ایک عمر رسیدہ پادری کو قتل کر دیا تھا جس کے بعد دونوں حملہ آوروں کو فرانسیسی پولیس نے گولی مار دی تھی۔

یہ ویڈیو دولتِ اسلامیہ کے میڈیا ونگ اماق نیوز ایجنسی نے جاری کی ہیں۔ یہ خبر رساں ادارہ اس سے قبل بھی اس تنظیم کی ویڈیوز اور بیانات پوسٹ کرتا رہا ہے۔

تاہم ابھی اس ویڈیو کی تصدیق فرانسیسی پولیس نے نہیں کی۔

منگل کو موصول ہونے والی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ حملہ کرنے والے افراد نے حملے کی فلم بھی بنائی تھی تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اماق کی جانب سے پوسٹ کی جانے والی وڈیو کو کہاں سے پوسٹ کیا گیا ہے۔

دونوں میں سے ایک حملہ آور کی شناخت تو ہو چکی ہے جبکہ فرانسیسی میڈیا کا کہنا ہے کہ پولیس دوسرے حملہ آور کی شناخت معلوم کرنے کے قریب پہنچ چکی ہے۔

قتل ہونے والے پادری فادر جیکس ہیمل۔
،تصویر کا کیپشنقتل ہونے والے پادری فادر جیکس ہیمل۔

حکام کا کہنا ہے کہ کرمیکی کے گھر سے آئی ڈی کارڈ ملا ہے جس پر عبدالملک پی کا نام درج ہے جس کا تعلق ایکس لیس بینس جو کہ مشرقی فرانس میں واقع ہے کو ظاہر کیا گیا ہے۔

دوسرے حملہ آور کا چہرہ پولیس کی گولی لگنے کے باعث بری طرح ناقابل شناخت ہو گیا ہے۔

فرانس کے بہت سے میڈیا گروپس نے کہا ہے کہ وہ اب حملہ کرنے والے افراد کی تصاویر شائع نہیں کریں گے۔

ادھر فرانس میں مذہبی رہنماؤں نے منگل کو گرجا گھر پر حملے میں ایک عمر رسیدہ پادری کی ہلاکت کے بعد مذہبی مقامات کی سکیورٹی مزید بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بات مسیحی، مسلمان، یہودی اور بودھ رہنماؤں نے فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند سے ملاقات کے بعد کہی ہے

فرانس کے بڑے مذاہب کے نمائندے اس ملاقات کے دوران وہاں موجود تھے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنفرانس کے بڑے مذاہب کے نمائندے اس ملاقات کے دوران وہاں موجود تھے

فرانسیسی مسلمانوں کی جانب سے ابوبکر نے ’شدید غم‘ کا اظہار کرتے ہوئے اس حملے کو ’گستاخانہ بے حرمتی‘ قرار دیا۔

گرجا گھر پر حملے کا واقعہ منگل کو نارمنڈی کے علاقے میں پیش آیا تھا اور پولیس نے دونوں حملہ آوروں کو گولی مار دی تھی۔

اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی اور پولیس کے مطابق وہ دونوں حملہ آوروں کے بارے میں پہلے سے علم رکھتی تھی۔

پراسیکیوٹر فریکوئس مولینس کا کہنا ہے کہ 19 سالہ عادل کمریکی کو گذشتہ برس دو مرتبہ اس وقت حراست میں لیا گیا جب انھوں نے شام جانے کی کوشش کی تھی۔

فرانس میں پیرس اور اس کے بعد نیس میں حملے کے بعد سکیورٹی پہلے ہی ہائی الرٹ ہے اور ملک میں نومبر سے ہنگامی حالت نافذ ہے۔

فرانس میں رواں ماہ ہی جنوبی شہر نیس میں قومی دن کی تقریبات کے موقع پر ہونے والے حملے میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سے پہلے گذشتہ سال ستمبر میں دارالحکومت پیرس میں ہونے والے حملوں میں130 سے زائد افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔