شام کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں: ترک وزیر اعظم

بن علی یلدرم کا کہنا تھا عراق اور شام میں استحکام انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے اہم ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبن علی یلدرم کا کہنا تھا عراق اور شام میں استحکام انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے اہم ہے

ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی کو خطے میں سفارتی تعلقات بڑھانے کی ضرورت ہے۔

٭ <link type="page"><caption> مشرق وسطیٰ میں ترکی کی شطرنج </caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/06/160629_israel_turkey_ties_analysis_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

ٹی وی پر نشر ہونے والے اس خطاب کو ترک حکومت کی پالیسی میں نیا موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ سنہ 2011 میں شام کے تنازعے کے آغاز ہی سے ترکی اور شام کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔

ترکی کا عرصہ دراز یہ کہنا ہے کہ علاقائی امن صرف اسی صورت میں بحال ہو سکتا ہے اگر شامی صدر بشار الاسد اقتدار سے الگ ہو جائیں۔

بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ عراق اور شام میں استحکام انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے اہم ہے۔

استنبول میں بی بی سی کی نامہ نگار کیٹی واٹسن کا کہنا ہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے۔

حال ہی میں ترکی نے اسرائیل اور روس کے ساتھ کشیدگی میں کمی کرتے ہوئے تعلقات بحال کیے تھے۔

حالیہ چند برسوں میں ترکی کرد باغیوں اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ دونوں کی جانب سے بم دھماکوں کا نشانہ بنا ہے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنحالیہ چند برسوں میں ترکی کرد باغیوں اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ دونوں کی جانب سے بم دھماکوں کا نشانہ بنا ہے

بن علی یلدرم کا کہنا تھا کہ ’یہ ہمارا سب سے عظیم اور اٹل مقصد ہے: شام اور عراق اور بحیرۂ روم اور بحیرۂ اسود کے گرد واقع تمام ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات کا قیام ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے روس اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کیے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم شام کے ساتھ بھی تعلقات بحال کریں گے۔‘

خیال رہے کہ مئی میں وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونے سے لے کر اب تک بن علی یلدرم متعدد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ ترکی کو اپنے دوست بڑھانے اور دشمنوں کی کمی کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب استنبول میں فرانسیسی قونصلیٹ جنرل کا کہنا ہے کہ فرانسیسی سفارتی عملے نے 14 جولائی کو بسٹائل ڈے کی تقریبات ’سکیورٹی خدشات‘ کی بنا پر منسوخ کر دی ہیں۔

حالیہ چند برسوں میں ترکی کرد باغیوں اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ دونوں کی جانب سے بم دھماکوں کا نشانہ بنا ہے۔