برطانیہ کی علیحدگی کے بعد ’جرمنی اور فرانس متحد ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے یورپی یونین چھوڑنے کے برطانوی فیصلے کے بعد کی صورت حال سے نمٹنے پر ان میں ’مکمل مفاہمت‘ ہے۔
اولاند نے متنبہ کیا کہ علیحدگی کے بعد ’ہمیں تقسیم، نااتفاقی اور جھگڑے کا خطرہ ہے۔‘
٭ <link type="page"><caption> برطانیہ کا اخراج، یورپی یونین نے طریقہ کار واضح کر دیا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/06/160626_eu_procedure_for_uk_leave_sr.shtml" platform="highweb"/></link>
٭ <link type="page"><caption> یورپی رہنما برطانوی ’علیحدگی‘ پر بحث کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/06/160624_eu_leaders_discuss_brexit_zis.shtml" platform="highweb"/></link>
’بریگزٹ‘ یا یورپی یونین سے برطانیہ کے نکلنے ریفرنڈم کے بعد مختلف سفارتی سرگرمیوں کے دوران ان دونوں رہنماؤں کی برلن میں ملاقات ہونے والی ہے۔
دریں اثنا ایشیائی بازاروں میں ابتدائي کاروبار کے دوران برطانوی پاؤنڈ کی قدر و قیمت میں مزید کمی آئی ہے۔
دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سوموار کو کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کی مہم کے سربراہ اور جو ڈیوڈ کیمرون کی جگہ لینے کے خواہش مند بورس جانسن نے کہا کہ برطانیہ یورپی یونین کے ساتھ تعاون میں ’اضافے‘ کی کوشش جاری رکھے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اتوار کو مسٹر اولاند نے کہا کہ برطانیہ کے فیصلے کو اب واپس نہیں لیا جائے گا۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ’جو کبھی ناقابل تصور تھا اب وہ ناقابل تنسیخ ہے۔‘
چانسلر میرکل صدر اولاند، اطالوی وزیر اعظم میٹیو رینزی اور یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کی سوموار کو میزبانی کر رہی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری لندن اور برسلز میں بات چیت کے لیے یورپ آنے والے ہیں۔
اتوار کو روم میں انھوں نے برطانیہ کے فیصلے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلقات کو برقرار رکھے گا۔
اس سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ برطانیہ کے فیصلے کے باوجود امریکہ اور برطانیہ کے خصوصی تعلقات قائم رہیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سے قبل یورپی کونسل کے صدر ژان کلاڈ جنکر نے کہا تھا کہ یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کا عمل جلدی شروع ہو جانا چاہیے۔
یورپی یونین کے کئی وزرائے خارجہ نے برطانیہ سے یورپی یونین کو چھوڑنے کا عمل شروع کرنے کے لیے کہا ہے جبکہ برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے کہا ’فی الحال کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔‘
جرمن چانسلر کے چیف آف سٹاف نے ان کے اس موقف کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ برطانوی سیاست داں اپنا وقت لیں اور یورپی یونین سے علیحدگی کے نتائج کا جائزہ لیں۔
اس سے قبل ڈیوڈ کیمرون نے کہا تھا کہ وہ اکتوبر میں عہدے سے دست بردار ہو جائیں گے تاکہ ان کے جانشین علیحدگی کی بات جاری رکھ سکیں جس میں لزبن معاہدے کے آرٹیکل 50 کے استعمال کا اعلان شامل ہے جس کے نتیجے میں برطانیہ کو دو سال کی مہلت مل جائے گی۔







