برطانیہ: سیاسی بحران ، اپوزیشن لیڈر پر’عدم اعتماد‘

،تصویر کا ذریعہAFP
یورپی یونین سے علیحدگی کے ریفرینڈم کے بعد برطانیہ کی لیبر پارٹی میں ایک قسم کا سیاسی بحران نظر آ رہا ہے جس کے نتیجے میں شیڈو کابینہ کے ایک وزیر کو برطرف کر دیا گیا ہے۔
حزب اختلاف لیبر پارٹی کے سربراہ جرمی کوربن نے اپنے خارجہ امور کے ترجمان ہلیری بن کو برطرف کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہلیری بن شیڈو کابینہ کے اپنے ساتھی اراکین کو اس بات کے لیے رضامند کر رہے تھے کہ اگر مسٹر کوربن عدم اعتماد کی درخواست کو نظر انداز کرتے ہیں تو وہ سب مستعفی ہو جائیں۔
خیال رہے کہ لیبر سربراہ کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ پیر کو ان کے ’ڈھیلی ڈھالی مہم‘ کے لیے درپیش ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے یورپی یونین میں شامل رہنے کے حق میں پارٹی کی جانب سے چلائی جانے والی مہم میں ’مسٹر کوربن کے ڈھیلے ڈھالے رویے نے تعاون کیا ہے‘ اور زیادہ تعداد میں اپنے ووٹروں کو یورپی یونین میں شامل رہنے کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے لانے میں پارٹی ناکام رہی ہے۔
اس سے قبل جمعے کو وزیر اعظم ڈیوڈ کمیرون نے کہا تھا کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے تاکہ ان کے جانشین کو یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی پر بات چیت کا موقع مل سکے۔

شیڈو چانسلر جان میک ڈانل نے کہا ہے کہ کاربن نے ریفرینڈم کی مہم کے دوران ’خود کو دبائے رکھا۔‘ سینیئر لیبر ذرائع نے بھی بی بی سی کو بتایا کہ اگر کوربن نے اعتماد کے ووٹ کو نظر انداز کیا تو شیڈو کابینہ کی اچھی خاصی تعداد مستعفی ہو سکتی ہے۔
لیبر رکن پارلیمان ڈیم مارگریٹ ہوج اور این کوفی نے پارلیمانی لیبر پارٹی کے چیئرمین جان کرائر کو ایک خط لکھ کر مسٹر کوربن کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک چلائی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس عدم اعتماد کی تحریک کا کوئی آئینی جواز نہیں ہے لیکن اس کے تحت پیر کو پارٹی کی آئندہ پارلیمانی میٹنگ میں اس پر بحث کے لیے کہا گیا ہے۔اگر چیئرمین اس پر بحث کا فیصلہ کرتے ہیں تو منگل کو لیبر ایم پی خفیہ بیلٹ کے ذریعے اس پر ووٹ ڈال سکتے ہیں۔







