جزیرے سعودی عرب کو لوٹانے کا فیصلہ منسوخ

صدر السیسی کے مطابق مصری فوج ان جزیروں پر سنہ 1950 سے سعودی عرب ہی کی درخواست پر تعینات ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنصدر السیسی کے مطابق مصری فوج ان جزیروں پر سنہ 1950 سے سعودی عرب ہی کی درخواست پر تعینات ہے

مصر کے ایک جج نے بحیرۂ احمر کے دو جزیرے سعودی عرب کو لوٹانے کے حکومتی فیصلے کو منسوخ کر دیا ہے۔

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے سعودی شاہ سلمان کے دورے کے موقعے پر اعلان کیا تھا کہ تیران اور صنافیر سعودی عرب کے حوالے کر دیے جائیں گے۔

* <link type="page"><caption> مصر: سعودی عرب کو جزیرے دینے کے معاہدے پر مظاہرے</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/04/160415_egypt_protest_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>

اس اعلان کے بعد ہونے والے احتجاج مظاہروں میں 150 سے زائد لوگوں کو جیل بھیجا گیا جن میں سے زیادہ تر یا تو آزاد کر دیے گئے یا ان کی سزا میں کمی کر دی گئی۔

منگل کو آنے والا یہ فیصلہ حتمی نہیں ہے اور اسے اعلیٰ عدالت کے فیصلے سے بدلا بھی جا سکتا ہے۔

تیران و صنافیر غیر آباد جزیرے ہیں اور یہ خلیج العقبہ کے دہانے پر واقع ہیں۔

صدر السیسی کی جانب سے جزیروں کی حوالگی کے فیصلے پر بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی اور کشیدگی پیدا ہوئی۔ جس کے بعد انھیں اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہنا پڑا کہ یہ جزیرے ہمیشہ سے سعودی عرب کے تھے۔مصری فوج ان جزیروں پر سنہ 1950 سے سعودی عرب ہی کی درخواست پر تعینات ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ جس انداز میں السیسی نے انھیں لوٹایا ہے وہ غیر آئینی ہے۔

منگل کو مصر کی ایک انتظامی عدالت نے اس حوالے سے دائر ایک مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے اس سرحدی معاہدے کو منسوخ کر دیا۔

فیصلے میں کہا گیا ’یہ دونوں جزیرے مصر کے زیرِ اختیار رہیں گے۔‘

اگر مصر کی اعلیٰ انتطامی عدالت نے بھی اس فیصلے کی توثیق کر دی تو جزیروں کی حوالگی پر قانونی پابندی لگ جائے گی۔