جزیرے سعودی عرب کو لوٹانے کا فیصلہ منسوخ

،تصویر کا ذریعہAFP
مصر کے ایک جج نے بحیرۂ احمر کے دو جزیرے سعودی عرب کو لوٹانے کے حکومتی فیصلے کو منسوخ کر دیا ہے۔
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے سعودی شاہ سلمان کے دورے کے موقعے پر اعلان کیا تھا کہ تیران اور صنافیر سعودی عرب کے حوالے کر دیے جائیں گے۔
* <link type="page"><caption> مصر: سعودی عرب کو جزیرے دینے کے معاہدے پر مظاہرے</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/04/160415_egypt_protest_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
اس اعلان کے بعد ہونے والے احتجاج مظاہروں میں 150 سے زائد لوگوں کو جیل بھیجا گیا جن میں سے زیادہ تر یا تو آزاد کر دیے گئے یا ان کی سزا میں کمی کر دی گئی۔
منگل کو آنے والا یہ فیصلہ حتمی نہیں ہے اور اسے اعلیٰ عدالت کے فیصلے سے بدلا بھی جا سکتا ہے۔
تیران و صنافیر غیر آباد جزیرے ہیں اور یہ خلیج العقبہ کے دہانے پر واقع ہیں۔
صدر السیسی کی جانب سے جزیروں کی حوالگی کے فیصلے پر بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی اور کشیدگی پیدا ہوئی۔ جس کے بعد انھیں اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہنا پڑا کہ یہ جزیرے ہمیشہ سے سعودی عرب کے تھے۔مصری فوج ان جزیروں پر سنہ 1950 سے سعودی عرب ہی کی درخواست پر تعینات ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ جس انداز میں السیسی نے انھیں لوٹایا ہے وہ غیر آئینی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منگل کو مصر کی ایک انتظامی عدالت نے اس حوالے سے دائر ایک مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے اس سرحدی معاہدے کو منسوخ کر دیا۔
فیصلے میں کہا گیا ’یہ دونوں جزیرے مصر کے زیرِ اختیار رہیں گے۔‘
اگر مصر کی اعلیٰ انتطامی عدالت نے بھی اس فیصلے کی توثیق کر دی تو جزیروں کی حوالگی پر قانونی پابندی لگ جائے گی۔







