سعودی عرب اور مصر کو ملانے کےلیے پل تعمیر کرنے کا اعلان

سعودی عرب اور خلیجی ممالک نے صدر الفتح السیسی کے اقتدار میں آنے کے بعد مصر کو اربوں ڈالر کی امداد دی ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب اور خلیجی ممالک نے صدر الفتح السیسی کے اقتدار میں آنے کے بعد مصر کو اربوں ڈالر کی امداد دی ہے

سعودی عرب کے بادشاہ نے سعودی عرب کو مصر کے ساتھ زمینی راستے کے ذریعے ملانے کے لیے بحیرۂ احمر پر پل بنانے کا اعلان کیا ہے۔

بادشاہ سلمان نے جو مصر کے پانچ روزہ دورے پر ہیں، ایک بیان میں کہا ہے کہ اس پل کی تعمیر سے دو اتحادی ممالک کے مابین تجارت کو فروغ ملےگا۔

مصر کے صدر عبد الفتح السیسی نے کہا کہ اس پل کو سعودی بادشاہ کے نام پر رکھا جائےگا۔

بادشاہ سلمان نے کہا: ’میں اپنے بھائی صدر عبد الفتح السیسی کی دونوں ملکوں کو ملانے کے لیے پل بنانے کی تجویز سے متفق ہوں۔‘

سعودی بادشاہ کے بیان میں کہاگیا کہ بحیرۂ احمر پر پل بنانے سے دو براعظموں، ایشیا اور افریقہ کے مابین تجارت میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔

اس سے پہلے بھی کئی بار بحیرۂ احمر پر پل تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی جا چکی ہے لیکن وہ کبھی حقیقت کا روپ دھارنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔

سابقہ اندازوں کے مطابق اس پل کی تعمیر پر تین سے چار ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔ پل کی تعمیر پر لاگت کے تازہ اندازوں کا ابھی تک اعلان نہیں ہوا ہے۔

*دونوں ملکوں کےتعلقات میں نیاباب

امید کی جا رہی ہے کہ سعودی بادشاہ مصر کے پانچ روزہ دورے کے دوران مزید تجارت اور تعاون کے منصوبوں کا اعلان کریں گے۔

سعودی بادشاہ کو قاہرہ کی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا ہے۔

صدر الفتح السیسی نے بحیرۂ احمر پر پل کے منصوبے کے بارے میں کہا کہ اس منصوبے سے عربوں کے مشترکہ لائحہ عمل کا نیا باب کھل چکا ہے۔

سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک نے صدر السیسی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مصر کو اربوں ڈالر کی امداد دی ہے۔