مصر: سعودی عرب کو جزیرے دینے کے معاہدے پر مظاہرے

،تصویر کا ذریعہAP

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پولیس نے ایک ہجوم کو منشتر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی ہے جو اس متنازع معاہدہ کے خلاف احتجاج کر رہا تھا جس کے تحت دو جزیروں کو سعودی عرب کے حوالے کر دیا جائے گا۔

ہزاروں افراد پر مشتمل احتجاجی مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور انھوں نے مطالبہ کیا کہ مصر کے صدر عبدالفتح السیسی مستعفی ہو جائیں۔

مسٹر السیسی کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی گئی ہے جب انھوں نے سعودی عرب کے شاہ سلمان کے دورے کے دوران بحرِ احمر کے دو جزیروں کو سعودی عرب کے حوالے کرنے کا کہا۔

یہ دو جزیرے جن کو سعودی عرب کے حوالے کیے جانے پر لوگوں میں اشتعال پایا جاتا ہے، سنہ 1950 سے مصر کے زیرِ کنٹرول ہیں اور ان پر کوئی آبادی نہیں ہے۔

قاہرہ میں مشتعل مظاہرین ’سیسی آؤٹ‘ اور ’جزیرے ہمارے ہیں‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

مظاہرے میں شریک ایک انجینیئر محمد حسین نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ’میں صرف ان جزیروں کے لیے نہیں بلکہ ملک کی مجموعی صورتِ حال پر احتجاج کر رہا ہوں۔‘

کچھ لوگوں کا یہ بھی نعرہ تھا ’لوگ اس حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔‘ یہ وہی نعرہ تھا جو سنہ 2011 میں عرب دنیا میں احتجاج کی لہر کے دوران مصر میں لگایا گیا تھا جس کے نتیجے میں سابق صدر حسنی مبارک کو اقتدار سے الگ ہونا پڑا تھا۔

حکام کے مطابق سکندریہ اور قاہرہ میں کم از کم 80 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ اس صورتِ حال کا جائزہ لے گا۔

مصر میں سیکولر اور اسلامی کارکنوں نے بحرِ احمر کے دو جزیروں کو سعودی عرب کے حوالے کرنے احتجاج کرنے کی اپیل کی ہے۔

اس معاہدے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ السیسی کا ان جزیروں کو پارلیمان کی منظوری کے بعد سعودی عرب کے حوالہ کرنے اور اس معاہدہ کرنے کا بعد اس کا اعلان کرنا مناسب نہیں ہے۔