قتل کی دھمکیاں، 11 ترک نژاد جرمن ارکان پارلیمان حفاظتی تحویل میں

 رواں ماہ کے آغاز میں جرمنی کی پارلیمان میں آرمینی ’نسل کشی‘ کی قرارداد کی منظور کی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن رواں ماہ کے آغاز میں جرمنی کی پارلیمان میں آرمینی ’نسل کشی‘ کی قرارداد کی منظور کی گئی تھی

جرمنی میں ترک نژاد 11 ارکان پارلیمان کو پولیس کی حفاظتی تحویل میں رکھا گیا ہے۔

ان ارکان پارلیمان کو سنہ 1915 میں سلطنت عثمانیہ میں آرمینی باشندوں کے قتل عام کو ’نسل کشی‘ قرار دینے کی حمایت کے بعد قتل کی دھمکیاں ملی ہیں۔

جرمنی کی وزارت خارجہ نے ترک نژاد ارکان پارلیمان کو ترکی کا سفر کرنے کے خلاف تنبیہ کی ہے اور کہا ہے کہ وہاں ان کی سکیورٹی کی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

٭ <link type="page"><caption> ترکی نے آرمینیوں کی نسل کشی کی تھی: جرمن پارلیمان</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/06/160602_german_ottoman_turk_nj" platform="highweb"/></link>

جرمن پارلیمان کے اس اقدام سے ترک حکومت نے بھی برہمی کا اظہار کیا ہے جو آرمینی باشندوں کے قتل کو قتل عام نہیں سمجھتی۔

11 ترک نژاد جرمن ارکان پارلیمان نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا اور انھیں ترک حکومت اور جرمنی میں قیام پذیر ترک باشندوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا تھا کہ ’یہ کس قسم کے ترک ہیں؟‘

انقرہ کے میئر نے ان 11 ارکان پارلیمان کی تصویریں ٹوئٹر پر پوسٹ کی اور لکھا کہ انھوں نے ’ہماری پیٹھ کر چھرا گھونپا‘ ہے۔

جرمن میڈیا کے مطابق اس ٹویٹ کو بہت سارے ترک شہریوں نے ری ٹویٹ کیا، جن میں سے کچھ دھمکیاں دینے والے بھی شامل ہیں۔

ترکی کے وکلا کے ایک گروہ نے ان ارکان پارلیمان کے خلاف ’ترک ریاست اور ترکیت کی توہین‘ کی درخواست دائر کی ہے۔

 ترکی اس بات کی تردید کرتا ہے کہ پہلی جنگِ عظیم کے دوران آرمینی باشندوں کی ہلاکتیں کسی منظم سازش کا حصہ تھی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن ترکی اس بات کی تردید کرتا ہے کہ پہلی جنگِ عظیم کے دوران آرمینی باشندوں کی ہلاکتیں کسی منظم سازش کا حصہ تھی

خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں جرمنی کی پارلیمان میں آرمینی ’قتل عام‘ کی قرارداد کی منظوری کے بعد ترکی نے برلن سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔

آرمینیا کا دعویٰ ہے کہ 1915 میں 15 لاکھ آرمینی ہلاک ہوئے تھے، جبکہ ترکی کا کہنا ہے کہ یہ تعداد بہت کم تھی اور اسے نسل کشی نہیں قرار دیا جا سکتا۔

فرانس اور روس سمیت 20 سے زیادہ ممالک 1915 میں ہونے والی ان ہلاکتوں کو نسل کشی مانتے ہیں۔

ترکی اس بات کی تردید کرتا ہے کہ پہلی جنگِ عظیم کے دوران آرمینی باشندوں کی ہلاکتیں کسی منظم سازش کا حصہ تھیں۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے وقت ترک باشندے بھی ہلاک ہوئے تھے۔