ٹرمپ کے بیانات پر عالمی رہنماؤں کا شور مچانا جائز ہے: اوباما

اوباما کا کہنا ہے ٹرمپ کے بیانات لاعلمی پر مبنی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناوباما کا کہنا ہے ٹرمپ کے بیانات لاعلمی پر مبنی ہیں

امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے عہدے کے لیے رپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر عالمی رہنماؤں کا شور مچانا جائز ہے۔

جاپان میں امیر ترین ممالک کے گروپ جی سیون کی سربراہ کانفرنس کے موقعے پر بات کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ نے عالمی امور پر کم علمی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اوباما نے کہا کہ غیر رہنما ان کی نامزدگی پر حیران ہیں۔

اس بارے میں مسٹر ٹرمپ کی جانب سے کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے کچھ بیانات مسلم مخالف ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنڈونلڈ ٹرمپ کے کچھ بیانات مسلم مخالف ہیں

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ عالمی رہنما یہ طے نہیں کر پا رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے کچھ بیانات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیا جائے۔ لیکن وہ ان بیانات سے پریشان ہیں اور اس کی ٹھوس وجوہات ہیں، کیونکہ انھوں نے جو بیانات دیے ہیں ان سے یا تو ان کی کم علمی ظاہر ہوتی ہے یا پھر ان کا لاپروایانہ رویہ۔

اوباما کا کہنا تھا کہ مسٹر ٹرمپ کو صرف ٹویٹس اور سرخیوں میں دلچسپی ہے نہ کہ اس بات میں کہ امریکہ کو محفوظ، مضبوط اور خوشحال بنانے کے لیے کیا کیا جانا چاہیے۔

صدر اوباما نے ہلیری کلنٹن اور برنی سینڈرز کے درمیان پرائمری انتخابات کے بارے میں ڈیمو کریٹک پارٹی کی تشویش کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اکثر انتخابات میں لوگ ایک دوسرے سے ناراض ہو جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رپبلکن اور ڈیموکریٹ امیدواروں کے درمیان بڑا فرق یہ ہے کہ ڈیموکریٹ امیدوار نظریاتی طور پر ایک دوسرے سے زیادہ دور نہیں ہیں۔