’امریکہ پاکستان کےساتھ کلیدی تعلقات پر قائم رہےگا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اوباما انتظامیہ نے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں سرد مہری کی اطلاعات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے ’اہم اور کلیدی‘ تعلقات جاری رکھنے پر قائم ہے۔
سنیچر کو ذرائع ابلاغ کے ساتھ اپنی روزانہ کی گفتگو میں امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان جان کربی کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک ایسا اہم رشتہ ہے جس پر ہمیں پورا اعتماد ہے۔ اگر آپ پوچھیں کہ آیا ان تعلقات میں کبھی کبھی پیچیدگی آ جاتی ہے اور آیا ہر معاملے پر ہمارا اور پاکستان کا موقف ایک ہوتا ہے، تو میرا جواب ہوگا کہ نہیں، ایسا نہیں ہوتا۔‘
*<link type="page"><caption> ’کانگریس کے اہم ارکان پاکستان کو فوجی امداد دینے کے حق میں نہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160513_sartaj_aziz_haqqani_network_zs" platform="highweb"/></link>
’لیکن خطے میں ہمیں مشترکہ خطرات اور خدشات کا سامنا ہے اور ہمارے مفادت بھی سانجھے ہیں ، اور یہی وجہ ہے کہ یہ رشتہ ہمارے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ہم پاکستان کے ساتھ اپنے رشتہ (بہتر) بنانے پر کام کرتے رہیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
مسٹر جان کربی نے ان خیالات کا اظہار ایک سوال کے جواب میں کیا میں جس میں ان سے پاکستان کے وزیرِ اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا تھا جس میں سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ گذشتہ تین ماہ سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات دباؤ کا شکار ہیں۔
مسٹر کربی کا کہنا تھا کہ سرتاج عزیز کا مذکورہ بیان ان کی نظروں سے نہیں گزرا ہے اس لیے وہ اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کریں گے۔
اس سے قبل جمعرات کو سینیٹ میں امریکہ سے ایف 16 طیاروں کی خریداری کے معاملے پر پالیسی بیان دیتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی مدد کے الزامات تو لگائے جاتے ہیں لیکن ان کے خلاف کارروائی کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا جاتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا تھا کہ ’امریکی حکام، کانگریس، وہاں کے تھنک ٹینک اور ذرائع ابلاغ ہمارے دشمنوں کے ساتھ مل کر پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی مدد کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں لیکن وہ ایسا کوئی بھی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں پائے جس کی مدد سے ہم حقانی نیٹ ورک یا دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مزید کارروائی کر سکیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
جب مسٹر کربی سے پوچھا گیا کہ آیا وہ افغان صدر کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ افغانستان پاکستان کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ لڑ رہا ہے، تو ترجمان کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ بیان بھی نہیں دیکھا، تاہم ’ ہمارا خیال ہے کہ اب بھی پاکستان اور افغانستان کو دہشتگردوں کے نیٹورک کی جانب سے ایک مشترکہ خطرے کا سامنا ہے اور دہشتگردوں کے یہ گروہ دونوں ممالک کے درمیانی سرحد کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے انسداد دہشتگردی کے دستوں کو افغانستان میں رکھا ہوا ہے۔‘
’اور یہی وجہ ہے کہ جس حد تک ممکن ہے ہم پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ اس مشترکہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے آپس میں معلومات کا تبادلے جاری رکھیں۔‘
طورخم پر پاکستان اور افغانستان کی درمیانی سرحد کے بندش کے حوالے سے ایک سوال پر مسٹر جان کربی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بظاہر سرحد کھول دی ہے اور ’امریکہ کی خواہش ہے کہ اس حوالے سے پاکستان اور افغانستان مل کر کام کریں۔‘
ذرائع ابلاغ کے جانب سے یہ پوچھا گیا کہ آیا مسٹر کربی اتفاق کرتے ہیں کہ آج کل امریکہ اور پاکستان زیادہ اچھے نہیں تو انھوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات اہم ہیں اور ہم ان پر نہایت سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں اور ہم پاکستان کے ساتھ اپنے اہم تعلقات پر قائم رہیں گے۔ اس لیے میں دونوں ممالک کے تعلقات کو خراب تعلقات کے پیرائے میں نہیں دیکھتا۔‘
واضح رہے کہ جمعرات کو امریکہ کے دفترِ خارجہ نے کہا تھا کہ امریکی کانگریس کے اہم ارکان پاکستان کو امریکی فوجی امداد دینے کے حق میں نہیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ
امریکی دفترِ خارجہ کی بریفنگ کے دوران پاکستان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں پریس ڈائریکٹر الزبتھ ٹروڈو نے کہا تھا کہ وہ واضح کر دینا چاہتی ہیں کہ ’ کانگریس کے اہم ارکان کچھ مخصوص حالات کے علاوہ پاکستان کو امریکی فوجی امداد دینے کے حق میں نہیں ہیں۔‘
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی نے پاکستان کے لیے امریکی امداد کی فراہمی پر عائد شرائط سخت کی اور کہا تھا کہ جب تک امریکی دفترِ خارجہ اس بات کی تصدیق نہیں کرتا کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف مناسب کارروائی کر رہا ہے اسے کوالیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں 45 کروڑ ڈالر ادا نہیں کیے جا سکتے۔







