مٹسوبشی کے دفتر پر جاپانی حکام کا چھاپہ

،تصویر کا ذریعہReuters
جاپان میں حکام نے گاڑیاں بنانے والی کمپنی مٹسوبشی کے دفتر پر اس انکشاف کے بعد چھاپہ مارا ہے کہ کمپنی نے گاڑیوں میں تیل خرچ کرنے کے ڈیٹا یا اعداد و شمار میں غلط بیانی کی ہے۔
حکام نے مرکزی جاپان کے شہر اوکازکی میں واقع مٹسوبشی کے دوسرے بڑے پلانٹ کی تلاشی بھی لی۔
مٹسوبشی نے خود بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے ملازمین نے 60 ہزار سے زیادہ کاروں میں مائیلیج کے اعداد و شمار تبدیل کیے ہیں۔ حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اس کیس کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور مٹسوبشی کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس بارے میں مکمل رپورٹ جمع کروائے۔
حکام نے گاڑیوں کے غلط ٹیسٹ کی مکمل رپورٹ جمع کروانے کے لیے 27 اپریل کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
جاپانی کابینہ کے چیف سیکریٹری یوشیدی سوگا کا کہنا ہے کہ مٹسوبشی کے دفتر میں کارروائی سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر وہ چاہیں گے کہ جلد از جلد اعداد و شمار میں کیے گئے ردوبدل کی مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں سختی سے کام لیں گے اور چاہیں گے کہ گاڑیوں کی سیفٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔
جے پی مورگن سے منسلک کاروں کے ماہر اکیرا کیشی موٹو نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ کاروں کے تیل خرچ کرنے کے اعداد و شمار میں ردوبدل سے مٹسوبشی کو 45 کروڑ ڈالر نقصان پہنچے گا۔
اس رقم میں صارفین کو ادائیگی، پارٹس تبدیل کرنے اور کاروں کی ایک اور کمپنی نسان کو معاوضے کی ادائیگی شامل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty
ایک اندازے کے مطابق مٹسوبشی کی ایک لاکھ 57 ہزار کاروں جب کہ نسان کے لیے بنائی گئیں ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ کاروں کے اعداد و شمار میں رد و بدل کیا گیا۔ اس سکینڈل میں جو کاریں متاثر ہوئی ہیں ان میں مٹسوبشی کے ماڈل ای کے ویگن، ای کے سپیس، اور نسان کے دو ماڈل شامل ہیں۔
مٹسوبشی کے سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد سے اس کے حصص کی قیمت فوراً 15 فیصد گر گئی تھی۔ جمعرات کو ٹوکیو سٹاک ایکسچینج میں کمپنی کے حصص کی قیمت 583 ین پر بند ہوئی جو مجموعی طور پر 20 فیصد گری ہے۔
یہ پہلی دفعہ ہے کہ کاروں کی کسی جاپانی کمپنی میں اس طرح کا سکینڈل سامنے آیا ہے۔ مٹسوبشی بریک فیل ہونے، کلچ کی خرابی اور ایندھن کے ٹینک کاروں سے گرنے کی شکایات کے بعد محنت کر کے دوبارہ صارفین کا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔
گذشتہ برس کاریں بنانے والی جرمن کمپنی ووکس ویگن کا بھی اسی سے ملتا جلتا سکینڈل سامنے آیا تھا۔ ووکس ویگن نے سکینڈل سے اٹھنے والے نقصان کو پورا کرنے کے لیے 4.8 ارب پاؤنڈز کی رقم مختص کی تھی







