جنگ بندی کے بعد کا یمن

یمنی دارالحکومت صنعا کی ایک مارکیٹ میں نظر آ رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنیمن کی تقریباً 80 فیصد آبادی کا انحصار امدادی خوراک پر ہے

1۔ یمن پہلے ہی عرب ممالک میں سب سے زیادہ غریب ملک ہے جس کے تیل اور پانی کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں۔ ایک برس پہلے لڑائی شروع ہونے کے بعد یمن کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا ہے، اس کی معیشت تقریباً رک چکی ہے اور اس کی دو کروڑ 60 لاکھ کی آبادی میں سے کم از کم 80 فیصد آبادی کا انحصار خوراک کی امداد پر ہے۔

2۔ یمن کی حکومت کی حامی فورسز اور حوثی قبائل میں ہونے والی جنگ میں اب تک چھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ 25 لاکھ سے زیادہ افراد اندرونی طور پر بے گھر ہو چکے ہیں۔

حوثی کو یمن کے سابق صدر کی حمایت حاصل ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنحوثی ایک ملیشیا کے جنگجو کا کفن اٹھا کر جا رہے ہیں جو سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمن فورسز کے ساتھ لڑتے ہوئے صنعا میں ہلاک ہوئے تھے

3۔ یمن سابق صدر کے حامی حوثی قبائل، حالیہ صدر کے حامیوں، خلیجی ممالک کی فوج اور اس کے حریف جہادیوں، جو القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ دونوں سے تعلق رکھتے ہیں، کے درمیان تقسیم ہو چکا ہے۔ باغی حکومت پر بدعنوانی اور اور مجوزہ وفاقی نظام کے اندر ان کے علاقے کو غیر اہم بنانے کے منصوبے کا الزام لگا رہے ہیں۔

4۔ حوثیوں نے مارچ 2015 میں یمن کے سابق صدر کی حمایت یافتہ فورسز کے مدد سے دارالحکومت صنعا سمیت کئی شہروں پر قبضہ کر لیا تھا۔ سعودی عرب کی سربراہی میں نو ممالک پر مشتمل اتحادی فوج نے مارچ 2015 میں ہی یمن پر فضائی حملے شروع کیے تھے تاکہ حوثی باغیوں کو شکست دی جا سکے جو تقریباً آدھے ملک پر قبضہ کر چکے تھے۔ اس کے بعد سے سعودی عرب کی سربراہی والے اتحاد کے فضائی حملوں اور فوجیوں کی مدد سے حکومت کی حامی فورسز اور جنوبی ملیشیا پانچ صوبوں پر دوبارہ قبضہ حاصل کر سکی ہے۔

5۔ کچھ لوگ یمن کی جنگ کو مشرقِ وسطیٰ کے دو بڑے حریفوں سعودی عرب اور ایران کے درمیان فرقہ وارانہ پراکسی جنگ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ سعودی عرب سنّی ریاست ہے جہاں اس کے مشرق میں مقیم شیعہ آبادی اس پر تعصب اور شیعوں کو غیر اہم سمجھنے کا الزام لگاتی ہے۔ ایران میں شیعہ اکثریت ہے۔ دونوں کی کوشش ہے کہ کسی طرح تیزی سے بدلتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر اپنا کنٹرول اور اثر و رسوخ حاصل کیا جائے۔