قبرص میں مصری ہائی جیکر کی عدالت میں پیشی

،تصویر کا ذریعہReuters
قبرص میں حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو جس ہائی جیکر نے مصر کی ایک پرواز کو قبرض میں اترنے پر مجبور کر دیا تھا اسے عدالت نے آٹھ دن کے لیے ریمانڈ پر دے دیا ہے۔
حکام نے اس شخص کا نام سیف الدین مصطفیٰ بتایا گیا ہے اور کہا ہے کہ وہ نفسیاتی طور پر غیر مستحکم ہیں۔
انھیں بدھ کے روز قبرص کے شہر لارناکا کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت میں پیشی کے موقعے پر سیف الدین مصطفی خاموش رہے لیکن جب پولیس اہلکار انھیں واپس لے جا رہے تھے تو انھوں نے فتح کا نشان بنایا۔
مصر کی فضائی کمپنی ’ایئرایجپٹ‘ کی پرواز ایم ایس 181 کو مصر کے شہر سکندریہ سے قاہرہ جاتے ہوئے ہائی جیک کر لیا گیا تھا۔
ہائی جیکر کا کہنا تھا کہ وہ آتشیں مواد والی بیلٹ پہنے ہوئے ہے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ان کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے اور جسے وہ خود کش بیلٹ بتا رہے تھے وہ جعلی ہے اور اس میں کوئی میں آتشی مواد نہیں تھا۔
اس دوران مصر کی وزارت داخلہ نے اس سلسلے میں جو ویڈیو جاری کی ہے اس میں اس شخص کو سکندریہ کے ایئر پورٹ برج العرب پر مسلسل کئی سکیورٹی چیک سے گزرتے ہوئے دیکھاجا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اطلاعات کے مطابق لارناکا ایئر پورٹ پہنچنے کے بعد ہائی جیکر نے تمام مسافروں کو رہا کر دیا تھا اور قبرص میں سیاسی پناہ اور اپنی سابقہ قبرصی بیوی سے ملنے کا مطالبہ کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قبرص کے صدر نیکوس انسٹاسیاڈیس نے صحافیوں کو بتایا کہ طیارے کا ہائی جیک ہونا دہشت گردی کا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ایک عورت سے ہے۔

،تصویر کا ذریعہepa
وزیر خارجہ ایونس کسولیڈیز کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ قبرص نژاد اپنی سابقہ اہلیہ سے ملاقات کے خواہش مند تھے اور پولیس انھیں ایئر پورٹ لے کر آئی اور ان سے ملاقات کروائی گئی۔ تاہم بعد میں انھوں نے کئی دیگر مطالبات بھی پیش کرنے شروع کر دیے تھے۔
سکندریہ ایئرپورٹ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا تھا کہ پرواز سے قبل جہاز میں آٹھ امریکی، چار برطانوی، چار ڈچ، دو بیلجیئن، ایک اطالوی اور 30 مصری شہری سوار ہوئے تھے۔
اس واقعے پر مصر کے ہوئے اڈے پر سکیورٹی کی لاپرواہی کے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آخر ایک ایک شخص اس طرح کی بیلٹ کے ساتھ، گرچہ وہ جعلی سہی، کیسے بآسانی جہاز میں سوار ہو سکا۔
مصر کے وزارت سیاحت نے اس واقعے کے بعد تمام ہوئی اڈوں پر سکیورٹی سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔







