معاہدے کے باوجود پناہ گزینوں کی یورپ آمد جاری

یورپی یونین اور ترکی کے درمیان پناہ گزینوں کے بحران پر معاہدہ نافذالعمل ہو گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنیورپی یونین اور ترکی کے درمیان پناہ گزینوں کے بحران پر معاہدہ نافذالعمل ہو گیا ہے

یورپی یونین اور ترکی کے درمیان پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کے معاہدے کے باوجود ترکی سے یونان پناہ گزینوں کی کشتیوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

یونان کے جزیرے لیسبوس پر اتوار کو بھی پناہ گزینوں کشتیاں پہنچی ہیں اور وہاں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے بقول پناہ گزین نئے معاہدے کے نکات سے آگاہ نہیں ہیں۔

دریں اثنا پناہ گزینوں کی ایک کشتی میں سفر کرنے والی دو لڑکیاں سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگئی ہیں۔

خیال رہے کہ یورپی یونین اور ترکی کے درمیان پناہ گزینوں کے بحران پر معاہدہ نافذالعمل ہو گیا ہے۔

اگر یونان پہنچنے والے پناہ گزین وہاں پناہ کی درخواست دائر نہ کریں، یا ان کی درخواست مسترد ہو جائے تو انھیں واپس ترکی بھیجا جا سکتا ہے۔

معاہدے کی حتمی مہلت آنے سے قبل یونان کے جزیروں پر پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا۔

اسی دوران یورپ کے مختلف شہروں میں اس معاہدے کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔

معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ہر شامی شہری جسے ترکی واپس بھیجا جائے گا، اس کے عوض ترکی میں پہلے سے موجود ایک شامی کو یورپی یونین میں بسایا جائے گا۔

تاہم اب بھی معاہدے کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات قائم ہیں، بشمول اس بات کے کہ پناہ گزینوں کی واپسی کا طریقۂ کار کیا ہو گا۔

تقریباً 23 سو سکیورٹی اہلکار، مہاجرین کے امور کے حکام اور مترجم یونان پہنچنے والے ہیں تاکہ وہ معاہدے کے نفاذ میں مدد دے سکیں۔

توقع ہے کہ اس معاہدے کے بعد لوگ ترکی سے یونان کا خطرناک سفر اختیار نہیں کریں گے۔ اس کے بدلے میں ترکی کو امداد اور سیاسی مراعات دی جائیں گی۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز ڈیڑھ ہزار کے قریب لوگ بحیرۂ ایجیئن عبور کر کے یونان کے جزائر پہنچے۔ یہ تعداد گذشتہ روز کے مقابلے پر دگنی ہے، جب کہ ایک ہفتے قبل صرف چند سو لوگوں ہی نے یہ راستہ اختیار کیا تھا۔

دوسری طرف ترکی کے ایک خبررساں ادارے انادولو نے خبر دی ہے کہ پناہ گزینوں کی ایک کشتی الٹنے سے ایک چار ماہ کی بچی ڈوب گئی۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق جنوری 2015 کے بعد سے دس لاکھ کے قریب پناہ گزین کشتیوں کے ذریعے ترکی سے یونان میں داخل ہوئے ہیں۔ صرف اسی سال 143000 افراد یونان پہنچے ہیں، جب کہ 460 راستے میں ہلاک ہو گئے۔