جاپان میں زلزلے اور سونامی کی پانچویں برسی

جاپان پانچ سال قبل آنے والے تباہ کن زلزلے اور سونامی کی پانچویں برسی پر خصوصی تقریبات منعقد کی جارہی ہیں۔ اس سونامی میں تقریباً 18,000 افراد ہلاک ہوئے تھے یا پھر اب تک لاپتہ ہیں۔

جمعے کو اس موقع پر مقامی وقت کے مطابق دو بجکر 46 منٹ پر، جس وقت زلزلہ آیا تھا، پورے ملک میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار گئی۔

وزیراعظم شنزو آبے اور باد شاہ اکی ہیتو ٹوکیوں میں ایک یادگاری تقریب میں پھولوں کا نذرانہ پیش کریں گے۔ ملک کے مختلف مقامات پر دعائیہ تقریبات بھی منعقد کی جا رہی ہیں۔

ساحل سمندر پر9.0کی شدت کے زلزلے سے سمندری طوفان برپا ہوا جس نے شمال مشرقی جاپان میں شدید جانی و مالی تباہی ہوئی تھی۔

سونامی سے فوکوشیما میں واقع ڈائچی جوہری پلانٹ بھی بری طرح سے متاثر ہوا تھا جسے سنہ 1984 میں چیرنوبی کے بعد بڑا جوہری تباہی کا واقعہ سمجھا جاتا ہے۔

ملک کے مختلف مقامات پر دعائیہ تقریبات بھی منعقد کی جا رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنملک کے مختلف مقامات پر دعائیہ تقریبات بھی منعقد کی جا رہی ہیں

اس جوہری تنصیب کے متاثر ہونے سے کافی بڑے علاقے تک تابکار مادے پھیلنے لگے تھے جس کی وجہ سے آس پاس بسنے والے تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار لوگوں کو وہاں سے باہر نکالا گیا تھا۔ تمام طرح کی کوششوں کے باوجود اس میں سے بیشتر افراد ابھی تک اپنے گھروں کو واپس نہیں ہوسکے ہیں۔

حکومت نے اس کی از سر نو تعمیر پر اب تک اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں لیکن اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

تعمیر نو کے محکمہ کے وزیر تکاگی سویوشی کا وعدہ ہے کہ یہ کام پورا کر لیا جائےگا۔

ان کا کہنا تھا ’ہارڈ ویئر کی مناسبت سے بحالی نو اور تعمیر نو کا کام کا فی حد تک ہوگیا ہے لیکن سافٹ ویئر کی حیثیت سے ابھی کافی کام ہونا ہے۔ مستقبل میں ہم دونوں ہی پہلوؤں کو حاصل کر لیں گے اور مکمل تعمیر نو کا کام آئندہ پانچ برس میں مکمل ہوجائےگا۔‘

سونامی سے فوکوشیما میں واقع ڈائچی جوہری پلانٹ بھی بری طرح سے متاثر ہوا تھا جسے سنہ 1984 میں چیرنوبی کے بعد بڑا جوہری تباہی کا واقعہ سمجھا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسونامی سے فوکوشیما میں واقع ڈائچی جوہری پلانٹ بھی بری طرح سے متاثر ہوا تھا جسے سنہ 1984 میں چیرنوبی کے بعد بڑا جوہری تباہی کا واقعہ سمجھا جاتا ہے

متاثرہ علاقے کے بہت سے باسیوں نے دوسری جگہ زندگی شروع کر دی ہے۔ ایسے بہت سے لوگوں کے لیے جذباتی مسائل اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں۔

ایک فائر مین ریکوزینٹکتا، جن کے 51 ساتھی ہلاک ہوگئے تھے، نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ’بنیادی ڈھانچہ دوبارہ ابھر رہا ہے لیکن دل نہیں۔ میرا خیال تھا کہ وقت کے ساتھ سب کچھ درست ہوجائےگا۔‘

ان کا کہنا تھا ’میں ہلاک ہونے والوں کے چہرے اب بھی دیکھتا رہتا ہوں، بہت زیادہ افسوس ہے، میں اسے ظاہر کرنے سے قاصر ہوں۔‘