ترکی: زمان اخبار کے دفاتر پر چھاپے کے خلاف احتجاج
ترکی کی پولیس نے استنبول میں حزبِ اختلاف کے زمان اخبار کو عدالت کی جانب سے ریاستی کنٹرول میں دیے جانے کے چند گھنٹوں بعد اس کے دفاتر پر چھاپہ مارا ہے۔
پولیس جمعے کی رات گئے زمان اخبار کی عمارت میں داخل ہوئی اور اس نے دفتر کے باہر جمع ہونے والے مظاہروں پر اشک آور گیس پھینکی۔
زمان اخبار کا تعلق امریکہ میں مقیم اسلامی رہنما فتح اللہ گولن کی حزمت تحریک سے ہے۔
ترکی کی حکومت حزمت تحریک کو دہشت گرد گروپ قرار دیتی ہے جس کا مقصد صدر رجب طیب اردوگان کی حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔
فتح اللہ گولن پہلے ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان کے حامی ہوا کرتے تھے۔حزمت تحریک کے متعدد حامیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ترکی کی حکومت پر صحافیوں کے خلاف رکھے جانے والے ناروا سلوک کی وجہ سے بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ترکی کی ایک عدالت نے جمعے کو حکم دیا تھا کہ کثیر اشاعت کے حامل اخبار زمان کو اب ریاست کے ماتحت چلایا جائے۔ عدالت نے اپنے حکم میں اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔
زمان اخبار کے سینکڑوں حامیوں نے اخبار کے دفتر کے باہر جمع ہو کر اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مظاہرین نے مختلف پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن میں ایک پر یہ نعرہ درج تھا ’ہم پریس کی آزادی کے لیے مقابلہ کریں گے۔‘
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور اشک آور گیس کا استعمال کیا۔
اس سے پہلے زمان اخبار کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ’ترکی آزادیِ صحافت کے حوالے سے تاریک ترین دنوں سے گذر رہا ہے۔‘
زمان اخبار کے ایڈیٹر ان چیف نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ’ حکومت کی جانب سے ترکی میں آزادیِ صحافت کو ختم کرنے کا یہ عملی اقدام ہے۔‘
ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے ترک حکومت کی جانب سے زمان اخبار کو ریاستی کنٹرول میں لیے جانے کی مذمت کی ہے۔
حکومت کا یہ اقدام ترکی کی ایک آئینی عدالت کی جانب سے ملک کے دو صحافیوں کو رہا کرنے کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔
ان دونوں صحافیوں پر ملکی راز افشا کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔







