شام میں تقریباً 100 متحارب گروپ جنگ بندی پر تیار

،تصویر کا ذریعہ
شام کی حزب مخالف کے بڑے گروپ نے کہا ہے کہ تقریباً ایک سو متحارب گروپ جنگ بندی پر رضامند ہوگئے ہیں۔
شام کی ’اعلی مذاکراتی کمیٹی‘ کے مطابق فری سیریئن آرمی کے دھڑے اور دیگر مسلح گروہوں نےسنیچر کے روز سے عارضی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
یہ خبر ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایسے الزامات سامنے آ رہے ہیں کہ روس نے جنگ بندی کی تاریخ قریب آنے پر باغیوں کے اڈوں پر پہلے سے زیادہ شدید بمباری کرنی شروع کر دی ہے۔
روس کا کہنا ہے کہ اس کی فضائیہ شام کے بعض حصوں میں دہشتگردوں پر بمباری کر رہی ہے۔
عالمی طاقتوں نے بارہ فروری کو ایک ہفتے کے اندر عارضی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن مقررہ وقت پر جنگ بندی نہ ہونے کی وجہ سے اس جنگ بندی کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جانے لگا تھا۔
اس جنگ بندی میں دولت اسلامیہ نامی شدت پسند تنظیم اور القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ شامل نہیں ہیں۔
اس معاہدے کے تحت شام کے متحارب گروپوں سے کہاگیا تھا کہ وہ جنگ بندی کے حوالے سے اپنے موقف کا جعمے کی شام تک اظہار کریں۔

،تصویر کا ذریعہAP
متحارب گروہوں کی جانب سے عارضی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے شام کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی نے کہا کہ شام کی حکومت اور اس کے اتحادیوں کو اس جنگ بندی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائس مانیٹرنگ گروپ کے سربراہ رامی عبد الرحمن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ گذشتہ رات روس نے دمشق کے مشرق میں خوطہ، حمس اور حلب میں باغیوں کے ٹھکانوں پر پہلے سے زیادہ شدید بمباری کی ہے۔
البتہ روس کے صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ روس کی فضائیہ النصرہ فرنٹ اور دولت اسلامیہ سمیت ایسے شدت پسندگروہوں کو نشانہ بنا رہی ہے جنہیں اقوام متحدہ نے جائز ہدف قرار دے رکھا ہے۔
روسی صدر نے مزید کہا کہ ایسےگروپوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی جاری رہے گی۔







