زیر تربیت عراقی فوجیوں کے قتل پر 40 کو سزائے موت

،تصویر کا ذریعہAP
عراق کی عدالت نے 2014 میں امریکی فوجی اڈے میں 1700 زیر تربیت فوجیوں کو قتل کرنے کے جرم میں 40 افراد کو سزائے موت سنائی ہے۔
اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے زیر تربیت فوجیوں کو سپائیکر نامی کیمپ میں اس وقت قتل کیا تھا جب اس نے شمالی عراق کے علاقوں پر قبضہ کیا تھا۔
ہلاک ہونے والے زیادہ تر زیر تربیت فوجی اہل تشیع سے تعلق رکھتے تھے اور اس کے بعد شیعہ ملیشیا دولت اسلامیہ کے خلاف متحرک ہوئی تھیں۔
جن جنگجوؤں کو سزائے موت کی سزا سنائی گئی ہے ان میں سے اکثر کو ماتحت عدالت سے سزائے موت کی سزا سنائی گئی تھی جس کے خلاف انھوں نے اپیل کی تھی۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنی والی تنظیموں نے عدالتی کارروائی پر تنقید کی ہے۔
2014 میں کیمپ سپائیکر میں قتل عام کی تصاویر اور ویڈیو دولت اسلامیہ نے جاری کی تھیں۔
عراقی سکیورٹی فورسز نے اس علاقے پر دوبارہ قبضہ 2015 میں کیا جس میں تکریت بھی شامل تھا۔ سکیورٹی فورسز کو اس علاقے میں اجتماعی قبریں ملی تھیں۔
قبضہ چھڑوانے کے لیے حکومتی کارروائی کے دوران کئی افراد کو قتل میں ملوث ہونے کے شک میں گرفتار کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعرات کو بغداد کی ایک عدالت نے 40 افراد کو سزائے موت سنائی۔ عدالت نے شواہد نہ ہونے کے باعث سات افراد کو بّری کر دیا۔ عدالتی افسر نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ تمام 47 افراد عراقی شہری ہیں۔
جسن 40 افراد کو سزا سنائی گئی ہے ان میں سے 24 کو پچھلے سال سزائے موت سنائی جا چکی تھی اور وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رہے تھے۔
دولت اسلامیہ کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر اور ویڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ زیر تربیت کو گاڑیوں پر زبردستی سوار کرایا گیا اور اس کے بعد ان کو زمین پر لٹایا گیا اور گولیاں ماری گئیں۔







