جرمنی میں ٹرین حادثے کی وجہ انسانی غلطی

،تصویر کا ذریعہEPA
جرمنی میں پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے ہونے والے ٹرین کے حادثے کے لیے ٹرینوں کو کنٹرول کرنے والے شخص کو ذمہ دار ٹھہرایاگیا ہے جس میں کم سے کم 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس حادثے میں دو ٹرینیں ایک ہی پٹری پر آمنے سامنے آ گئی تھیں اور حادثے میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔
پراسیکیوٹر کے مطابق ایریا کنٹرولر نے دونوں ٹرینوں کے لیے پٹری کھول دی تاہم بعد میں ڈرائیوروں کو خبردار کرنے کی کوشش کی تھی۔
39 سالہ اس شخص پر غیر ارادی قتل عام کا الزام عائد کیا جا سکتا ہے جس پر انھیں پانچ سال قید ہو سکتی ہے۔
چیف پراسیکیوٹر وولفگینگ کا کہنا تھا کہ ’اگر وہ اصولوں کے مطابق چلتے تو یہ تصادم نہ ہوتا۔‘
ٹکرانے والی دونوں ٹرینیں 100 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آ رہی تھیں۔
حادثے کی تفتیش اس پہلوسے کی جا رہی تھی کہ حفاظتی اصولوں کے باجود دونوں ٹرینیں ایک ہی پٹری پر کیسے آئیں۔ چونکہ ٹکراؤ ایک موڑ پر ہوا اس لیے ڈرائیوروں کو بھی دکھائی نہیں دیا اور وہ بریک نہیں لگا پائے اور تصادم ہو گیا۔
پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ کنٹرولر کی غلطی کے نتائج گو کےتباہ کن تھے لیکن یہ کام انھوں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تحقیق میں کسی قسم کے تکنیکی مسئلے کو خاراج از امکان قرار دیا۔ حادثے میں ہلاک ہونے والے تمام مرد تھے اور ان کی عمریں 24 سے 59 کے درمیان تھیں۔







