ترکی کی شام میں کرد ملیشیا پر دوبارہ بمباری

،تصویر کا ذریعہAFP
ترکی کے مطابق اس نے اتوار کو دوسرے دن بھی شام کے شمال میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی سے منسلک کرد ملیشیا کے ٹھکانوں پر پوپخانے سے بمباری کی ہے
دوسری جانب شامی کردوں نے تُرکی کے اس مطالبے کو مسترد کردیا ہے کہ وہ ترک سرحد کے ان قریبی علاقوں سے نکل جائیں جہاں انھوں نے حال ہی میں قبضہ کیا ہے۔
ترکی میں کردوں کی تنظیم پی وائے ڈی کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ترکوں کو شام کے امور میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں۔
دریں اثنا فرانس کی وزارتِ خارجہ نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائی بند کرے۔
فرانسیسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ’ خراب ہوتی ہوئی صورتحال پر اسے تشویش ہے۔‘
اس سے پہلے امریکہ نے ترکی سے کہا ہے کہ بمباری روک دے اور اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف لڑائی پر توجہ دے۔
واضح رہے کہ ترکی شامی کردوں کو تُرکی کے اندر خودمختاری کے لیے لڑنے والے کرد گوریلاؤں کا اتحادی سمجھتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اتوار کو ہی امریکی صدر براک اوباما اور روس کے صدر ولادی میر پوتن نے شام میں جنگ بندی کے لیے گذشتہ ہفتے ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹیلی فون پر ہونے والے رابطے میں دونوں رہنماوں نے دہشت گردی کے خلاف متحدہ محاذ تشکیل دینے کے حوالے سے بھی بات چیت کی ہے۔
دوسری جانب شام کے تنازع کے پرامن حل کے جرمنی کے شہر میونخ میں ہونے والے مذاکرات کا آج آخری دن ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگہرینی نے سنیچر کو کہا تھا اب وہ وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو شام کے معاملے پر اپنے کردار کو واضح کرنا پڑے گا۔
اس سے پہلے سعودی عرب نے ترکی میں اپنے جنگی طیاروں کی تعیناتی کی تصدیق کی ہے۔
سعودی حکومت کو موقف ہے کہ یہ طیارے خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف کارروائی کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔خیال رہے کہ اب تک شام میں بمباری کرنے والے سعودی جہاز اپنے ملک میں واقع فضائی اڈوں سے ہی اڑتے تھے۔
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ترکی میں تعیناتی سے طیارے حدف کو آسانی سے نشانہ بنا سکیں گے۔ تاہم سعودی فوج کے جنرل احمد عسیری کا کہنا ہے کہ فی الحال طیاروں کے ساتھ زمینی دستے تعینات نہیں کیے جا رہے ہیں۔
جنرل احمد کا مزید کہنا تھا کہ امریکی قیادت میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کرنے والے فوجی اتحاد کا خیال ہے کہ زمینی دستوں کے بغیر دہشت گردوں کو شکست نہیں دی جا سکتی اس لیے ان کا ملک شام میں زمینی افواج بھیجنے کے لیے پر عزم ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سے قبل ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاووش اوعلو نے کہا تھا کہ ممکن ہے کہ سعودی عرب اور ترکی کے فوجی شام میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والے شدت پسند تنظیم کے خلاف زمینی کارروائی میں حصہ لیں۔
خیال رہے کہ ترکی اور سعودی عرب شام میں باغیوں کے حمایتی ہیں جنھیں حال ہی میں شامی فوج نے روس کی فضائی مدد سے کئی علاقوں میں شکست دی ہے۔
روس اس سے پہلے خبردار کر چکا ہے کہ شام میں کسی بیرونی ملک کی زمینی مداخلت کے نتیجے میں جنگ عظیم بھی شروع ہو سکتی ہے۔







