اردوغان کی تارکینِ وطن کو واپس بھجوانے کی دھمکی

،تصویر کا ذریعہAP
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ترکی میں مقیم لاکھوں تارکینِ وطن کو یورپی یونین کے رکن ممالک میں واپس بھیجنے کی دھمکی دی ہے۔
صدر اردوغان کا یہ بیان نیٹو کی جانب سے تارکینِ وطن کو ترکی سے یونان پہنچانے والے انسانی سمگلروں کو روکنے کے لیے بحیرۂ ایجیئن میں نیٹو کے بحری جہاز تعینات کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
انقرہ میں مغربی ممالک کی تارکینِ وطن کے بارے میں پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے رجب طیب اردغان نے اس بات کی تصدیق کی کہ انھوں نے یورپی یونین کے گذشتہ سال نومبر میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں دھمکی دی تھی کہ اگر مغربی ممالک نے اپنی پالیسی نہ بدلی تو ترکی مہاجرین کو ’خدا حافظ‘ کہہ سکتا ہے۔
ترکی سے روزانہ ہزاروں تارکینِ وطن کی بحیرۂ ایجیئن کے ذریعے یورپی ممالک کا سفر کرنے کی وجہ سے یورپی دارالحکومتوں میں خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔
نیٹو نے تارکینِ وطن کو ترکی سے یونان پہنچانے والے انسانی سمگلروں کو روکنے کے لیے بحیرۂ ایجیئن میں نیٹو کے بحری جہاز تعینات کرنے سے اتفاق کیا تھا۔
ترکی پر، جو پہلے ہی 30 لاکھ تارکینِ وطن کو پناہ دے چکا ہے، یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے شام کے شہر حلب سے آنے والے دسیوں ہزاروں پناہ گزینوں کو پناہ دینے پر دباؤ کا سامنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
طیب رجب اردوغان کا کہنا تھا کہ ترکی کے پاس پناہ گزینوں کو اپنے ملک سے نکال دینے کا پورا حق حاصل ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے ماتھے پر ’بیوقوف‘ کا لفظ نہیں لکھا ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترکی کے صدر کے بقول ’ہم صبر سے کام لیں گے، تاہم وہی کریں گے جو ہمیں کرنا چاہیے۔‘
یونان کی ویب سائٹ یورو2 ڈے.جی آر کے مطابق ترکی صدر نے یورپی یونین کمیشن کے صدر ژاں کلود ینکر کو گذشتہ سال نومبر میں یہ دھمکی دی تھی۔
ویب سائٹ نے صدر اردوغان کے حوالے سے بتایا: ’ہم یونان اور بلغاریہ کے لیے کسی بھی وقت دروازے کھول سکتے ہیں اور تارکینِ وطن کو بسوں پر بٹھا سکتے ہیں۔‘
ترکی کے صدر نے انقرہ میں جمعرات کو تقریر کرتے ہوئے کہا: ’میں نے جو کہا، مجھے اس پر فخر ہے۔ ہم نے ترکی اور مہاجرین کے حقوق کا تحفظ کیا ہے اور ہم نے یورپی یونین کو بتایا دیا ہے کہ ہم معذرت چاہتے ہیں، ہم دروازے کھول دیں گے اور تارکینِ وطن کو خدا حافظ کہہ دیں گے۔‘







