جنوبی کوریا کی بیوٹی مصنوعات کی کامیابی کا راز؟

کوریا میں کہا جاتا ہے کہ گھونگوں سے خارج ہونی والی چپچپاہٹ چہرے کی جلد کے لیے اچھی ہوتی ہے

،تصویر کا ذریعہgetty

،تصویر کا کیپشنکوریا میں کہا جاتا ہے کہ گھونگوں سے خارج ہونی والی چپچپاہٹ چہرے کی جلد کے لیے اچھی ہوتی ہے

اگر آپ نے کبھی گھونگے سے خارج ہونے والی چپچپاہٹ سے بنی چہرے کی کریم نہیں استعمال کی ہے تو آپ اس سے محروم ہیں۔

اسی طرح اگر آپ ہفتے میں ایک یا دو گھنٹوں کے لیے سَمَندَری گھاس سے بنا فیس ماسک نہیں استعمال کرتے تو آپ بیوٹی کی دنیا میں پیچھے رہ گئے ہیں۔

یہ دونوں مصنوعات عالمی کاسمیٹکس اور سکن کیئر کی صنعت میں تازہ ترین ٹرینڈز کا حصہ ہیں، اور جنوبی کوریا میں بنائے جاتے ہیں۔

جنوبی کوریا ایک ایسا ایشیائی ملک ہے جو بہت عرصے سے سکن کیئر کا دیوانہ ہے۔

جنوبی کوریا میں خواتین میک اپ اور بیوٹی پراڈکٹس یا مصنوعات پر امریکی خواتین کے مقابلے میں دگنا خرچہ کرتی ہیں۔

اسی اثنا میں جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے مرد بھی کسی دوسری ملک کے مقابلے میں سکن کیئر پر سب سے زیادہ خرچہ کرتے ہیں۔

گذشتہ سال جنوبی کوریا نے 2.64 ارب ڈالر کے برابر کی کاسمیٹکس امریکہ برآمد کی تھیں جو کہ ’کوریا کسٹمز سروس‘ کے مطابق ریکارڈ توڑ رقم ہے۔

جنوبی کوریا میں خواتین میک اپ اور بیوٹی پراڈکٹس یا مصنوعات پر امریکی خواتین کے مقابلے میں اپنی دگنی خرچہ کرتی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنجنوبی کوریا میں خواتین میک اپ اور بیوٹی پراڈکٹس یا مصنوعات پر امریکی خواتین کے مقابلے میں اپنی دگنی خرچہ کرتی ہیں

سنہ 2012 میں جنوبی کوریا نے ایک ارب ڈالر کی کاسمیٹکس برآمد کی تھیں اور سنہ 2014 یہ برآمدات 1.91 ارب ڈالر کی تھیں۔

کوریا سے برآمد ہونے والی سکن کیئر پراڈکٹس کی سب سے بڑی مارکٹیوں میں امریکہ شامل ہے جہاں رہنے والے کوریائی نژاد شہریوں نے موقعے کا فائدہ اٹھانے کے لیے کاروبار بھی شروع کر رکھے ہیں۔

ان بیوٹی پراڈکٹس میں استعمال ہونے والے اجزا روایتی طور پر امریکی یا یورپی مصنوعات میں نہیں ملتے ہیں۔

مثال کے طور پر گھونگوں سے خارج ہونے والی چپچپاہٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ چہرے کی کریمز میں پائی جانے والی کولیجن اور ایلاسٹین نامی اجزا کو متحرک کرتی جو چہرے کو ملائم رکھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔

کرسٹین چیانگ اور سالہ سارہ لی نیو یارک کے ضلع ’کوریا ٹاؤن‘ میں مشترکہ کاروبار چلاتی ہیں۔ وہ جنوبی کوریا سے سکن پراڈکٹس درآمد کر کے امریکہ میں بیچتی ہیں۔

سارہ لی ایک سفید رنگ کا کھمبی کا پوسٹر دکھاتے ہوئے بتا رہی ہیں کہ اس فنگس کو سکن کیئر پراڈکٹس میں جز کے طور پر اس لیے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ ’خشکی سے بہت اچھی طرح بچاتا ہے۔‘

بیوٹی کے حوالے سے کام کرنے والے صحافی ان کی ہر بات کو نوٹ کر رہے ہیں۔

دونوں خواتین کوریائی نژاد امریکی شہری ہیں جو ایک دوسرے سے 10 برس قبل ملی تھیں جب وہ سکن کیئر کی مشہور کمپنی ’لوریال‘ کے لیے کوریا میں ملازمت کرتی تھیں۔

سارہ اور کرسٹین پہلے لوریال کے لیے کام کرتی تھیں
،تصویر کا کیپشنسارہ اور کرسٹین پہلے لوریال کے لیے کام کرتی تھیں

سنہ 2014 میں دونوں نے کوریائی سکن کیئر پراڈکٹس سے متعلق اپنی مہارت کو استعمال کر کے اپنی کمپنی شروع کرنے کا فیصلہ کیا جس کا نام انھوں نے ’گلو ریسیپی‘ رکھا۔

ان کی کمپنی جنوبی کوریا سے بیوٹی پراڈکٹس برآمد کر کے اپنی ویب سائٹ پر 150 پراڈکٹس فروخت کرتی ہے۔

ان کی سب سے مقبول چیز ’سی ویڈ‘ اور ملائم کرنے والی سیرم سے بنا ایک فیس ماسک ہے جو 14 ڈالر میں فروخت کیا جاتا ہے۔

ان دونوں کاروباری شراکت داروں کا کہنا ہے کہ ان کے کاروبار میں ہر سہ ماہی میں اوسطاً 70 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔

امریکہ میں کوریائی بیوٹی پراڈکٹس کی مقبولیت سنہ 2011 سے شروع ہوئی جب بی بی کریم نامی پراڈکٹ لانچ کی گئی جس کے بارے میں امریکہ میں کسی کو علم نہیں تھا۔

بی بی کریم جلد کو ملائم بنانے کے ساتھ ساتھ میک اپ فاؤنڈیشن کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ کوریائی خواتین بی بی کریم کو برسوں سے استعمال کر رہی تھیں۔

سنہ 2014 میں امریکہ میں بی بی کریم سے حاصل ہونے والی آمدنی 16 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک بتائی گئی تھی۔

گھونگوں سے خارج ہونے والی چپچپاہٹ سے بنی کریم جنوبی کوریا کی خواتین میں بہت مقبول ہے
،تصویر کا کیپشنگھونگوں سے خارج ہونے والی چپچپاہٹ سے بنی کریم جنوبی کوریا کی خواتین میں بہت مقبول ہے

مارکیٹ ریسرچ کرنے والی کمپنی منٹیل سے تجزیہ کار سارہ جنڈل کا کہنا ہے کہ ’جنوبی کوریا میں بیوٹی کی صنعت نے غیر معمولی ترقی کی ہے

باوجود اس بات کے کہ کوریائی اور مغربی خواتین کے بیوٹی سے متعلق نظریات بہت مختلف ہیں۔

مثال کے طور پر جہاں مغرب میں خواتین فیشلز کرواتے وقت عام طور پر صرف تین مراحل سے گزرتی ہیں وہاں جنوبی کوریا میں ایک فیشل کے دس مراحل ہوتے ہیں جن میں ’اِیسنس‘ اور ’امپول‘ کریموں کے ساتھ ساتھ ایک ’شیٹ ماسک‘ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

لائف سٹائل کی ویب سائٹ ’ریفائنری 29 ڈاٹ کام‘ کی بیوٹی ڈائریکٹر میگن میکن ٹائر کا کہنا ہے کہ ان 10 مراحل کو پورا کرنے کی کوشش کرنے والی کئی خواتین اس کام میں ناکام ہوجاتی ہیں۔

انھوں نے کہا: ’ان دس مراحل کو پورا کرنے کی کوشش کرنے والی کئی خواتین کو احساس ہوا کہ ایک دن میں دس مصنوعات کو استعمال کرنا ایک بہت ہی مہنگا کام ہے، اور ان کو استعمال کرنے کے بعد ان کی جلد کے معیار میں بھی کوئی خاص فرق نہیں نظر آتا۔‘

اس کے علاوہ مغربی صارفین کے لیے ایک دہری مشکل یہ بھی ہے کہ ان مصنوعات کے ڈھیر میں سے وہ کن کو چنیں؟

نیو یارک میں واقع کوریائی مصنوعات درآمد کر کے آن لائن فروخت کرنے والی کمپنی ’پیچھ اینڈ للی‘ کی بانی ایلیشا یون کہتی ہیں کہ یہ بہت ضروری ہے کہ ان کی جیسی کمپنیاں کم مقدار میں مصنوعات فروخت کریں۔

انھوں نے سمجھایا کہ ’ان مصنوعات کو ہم اتنے غور سے دیکھتے ہیں کہ ان سب میں سے ہم صرف پانچ فیصد کو فروخت کے لیے چنتے ہیں۔‘

انھوں نے ہزاروں کوریائی برانڈز میں سے 50 چنیں اور پھر انھیں بنانے والی کمپنیوں کے دورے کرنے کے بعد ان کی تحقیق و ترقی کے عمل کا جائزہ لیا۔

33 سالہ ایلیشا یون نے ’ نجی ایکوئٹی‘ کے پیشے میں اپنی ملازمت چھوڑ کر سنہ 2012 میں اپنی بیوٹی کمپنی شروع کی، اور پھر کبھی پیچھے مڑ کر ہی نہیں دیکھا۔