رواں سال خوبصورتی کا معیار کیا رہا؟

 ٹی وی میزبان نے بھاری جسامت کی حامل خواتین کے لیے ’پلس سائز‘ کی اصطلاح کے استعمال کے خلاف مہم کا آغاز کیا

،تصویر کا ذریعہAjay Rochester

،تصویر کا کیپشن ٹی وی میزبان نے بھاری جسامت کی حامل خواتین کے لیے ’پلس سائز‘ کی اصطلاح کے استعمال کے خلاف مہم کا آغاز کیا

سال 2015 میں آن لائن جن موضوعات پر سب سے زیادہ بات چیت کی گئی ان میں انسانی جسم کے متعلق یہ سوال بھی اہمیت کا حامل رہا تھا کہ خوبصورتی کا تعین کون کرے گا؟

بی بی سی ٹرینڈز گذشتہ سال ابھرنے والے ایسے ہی چھ موضوعات کو پیش کر رہا ہے۔

’ڈراپ دی پلس‘

اپریل میں ایک آسٹریلوی ٹی وی میزبان نے بھاری جسامت کی حامل خواتین کے لیے <link type="page"><caption> ’پلس سائز‘ کی اصطلاح کے استعمال کے خلاف مہم کا آغاز کیا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/news/magazine-32289744" platform="highweb"/></link>، اس مہم میں انھوں نے دکانوں اور فیشن انڈسٹری سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ اصطلاح استعمال نہ کریں۔

اس مہم میں ہزاروں افراد نے ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ ’ڈراپ دی پلس‘ کا استعمال کیا اور سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر شیئر کیں۔ تاہم ہر کسی نے اس اتفاق نہیں کیا، کچھ لوگوں کے خیال میں وہ ’پلس‘ کی اصطلاح سے خود کو باہمت محسوس کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہStylesnatcher.Instagram

ویسٹ ٹرینر

مئی میں <link type="page"><caption> بی بی سی ٹرینڈنگ نے انسٹاگرام پر ویسٹ ٹرینرز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/news/magazine-32555351" platform="highweb"/></link>۔ کم کارڈشین جیسی معروف شخصیات نے بھی اس کی توثیق کی تھی، اور دعویٰ کیا تھا کہ اس طرح کے آلات جسم کی خوبصورت بناوٹ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ تاہم کچھ لوگوں نے اس متنازع آلے کے بارے میں اپنے منفی تجربات بھی آن لائن شیئر کیے۔

ایسا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں کہ یہ واقعی کارگر ثابت ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMackenzie Pearson

’دی ڈیڈ بوڈ‘

امریکہ میں یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے اپنے والد کے<link type="page"><caption> غیرمتناسب جسم کے بارے میں ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ’ڈیڈ بوڈ‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/news/blogs-trending-32830880" platform="highweb"/></link> یعنی والد کا جسم۔ اس مضمون میں انھوں نے اپنے والد کے غیرمتناسب جسم کی خوبیاں بیان کیں۔ اس مضمون ہر سوشل میڈیا میں بہت زیادہ ردعمل سامنے آیا۔ تاہم بہت سارے لوگوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔

،تصویر کا ذریعہEm Ford

تم بدصورت لگتی ہو

جولائی میں لاکھوں کی تعداد میں ایک ویڈیو دیکھی گئی۔ برطانوی بیوٹی بلاگر کی جانب ایک خاتون کی میک اپ کے بغیر اور مہاسوں سے بھرے چہرے والی ویڈیو کے بارے میں ایم فورڈ کا کہنا تھا کہ وہ اس ویڈیو کے ذریعے دوہرے معیار کی وضاحت کرنا چاہتی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter

’فلیکسن مائی کمپلیکشن‘

اگست میں ٹوئٹر پر<link type="page"><caption> ’فلیکسن مائی کمپلیکشن‘ کا ہیش ٹیگ شروع کیا گیا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/news/magazine-33416400" platform="highweb"/></link> جس کا مقصد گہری رنگت کی حامل شخصیات کو خراج تحسین پیش کرنا تھا۔ یہ مہم اس امر کا ردعمل تھی کہ جب کبھی آپ انٹرنیٹ پر ’خوبصورت جسم‘ کی اصطلاح تلاش کرتے ہیں تو آپ کے سامنے صرف سفید فام خواتین کی تصاویر سامنے آتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSean OBrien

رقص کرتا ہوا آدمی

ایک موٹی جسامت کا شخص جسے ایک پارٹی میں<link type="page"><caption> رقص کرنے پر ’موٹا قابل شرم آن لائن‘ کہہ کرپکارا گیا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/news/magazine-31804486" platform="highweb"/></link> بالآخر سب کا دلپسند شخص بن گیا جسے ہر کوئی اپنی پارٹی میں بلانا چاہتا تھا۔

اس شخص کو تلاش کرنے کی مہم نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی اور اس کے نتیجے میں لاس اینجلس میں منعقدہ تقریب میں ’ڈانسنگ مین‘ کی شرکت ہوئی۔ بعد میں اس شخص کی شناخت برطانوی شہری شین او برائن کے نام سے ہوئی۔