’خاتون کے رنگ، جسم پر پارلیمنٹ میں بحث کیوں‘

شرد نے جسم کی ساخت کو لفظوں میں بیاں نہیں کیا لیکن ان کے ہاتھ کے اشارے بہت کچھ کہہ گئے
،تصویر کا کیپشنشرد نے جسم کی ساخت کو لفظوں میں بیاں نہیں کیا لیکن ان کے ہاتھ کے اشارے بہت کچھ کہہ گئے

جنوبی بھارت کی خواتین کے رنگ اور جسم کی ساخت کے بارے میں پارلیمنٹ میں شرد یادو کے تبصرے پر سوشل میڈیا پر سخت ردِ عمل سامنے آیا ہے۔

جنتا دل یونائیٹڈ کے رہنما نے لوک سبھا میں انشورنس بل پر ہو رہی بحث میں حصہ لیتے ہوئے جنوبی بھارتی خواتین پر تبصرہ کیا تھا۔

انھوں نے جمعرات کو اپنی تقریر میں کہا ’انشورنس کی صنعت میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو 26 سے 49 فیصد کرنے کے پیچھے گورے رنگ کے حوالے سے لوگوں کی دیوانگی کام کر رہی ہے۔‘

شرد یادو تقریر کے دوران اچانک جنوبی بھارتی خواتین کے سانولے رنگ اور ان کے جسم کی ساخت کے بارے میں بات کرنے لگے۔ اگرچہ انہوں نے جسم کی ساخت کو لفظوں میں بیاں نہیں کیا لیکن ان کے ہاتھ کے اشارے بہت کچھ کہہ گئے۔ ان کی تبصرے پر کئی رہنما ہنسنے لگے۔

ٹوئٹر پر #ShameOnSharad نام سے ایک ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے۔

ایک صارف پردیپ سین نے ٹوئٹر پر لکھا کہ سیاستدان عوام کی طرح ہی ہوتے ہیں اور یہ ہماری بیمار ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔

ایک اور صارف نے سوال اٹھایا کہ ’ایسے لوگوں کے ساتھ کیا کیا جائے کیونکہ ان کا دماغ وقت کے ساتھ ساتھ پرانا ہو چکا ہے‘۔

سلیم کا خیال ہے کہ شرد یادو کو عوام سے معافی مانگنے پر مجبور کیا جانا چاہیے۔ اے كے بكشي نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’شرد یادو جیسے لوگ خواتین کا احترام کرنا نہیں جانتے‘۔

ڈی شاہ کہتے ہیں کہ ’ایسے لوگوں کو پارلیمنٹ سے نکال دینا چاہیے‘۔

دوسری جانب سجیت لال نے لکھا ہے کہ ’لالو پرساد کے بعد ہندوستانی سیاست کے سب سے بڑے جوکر شرد یادو ہی ہیں‘۔

ریٹا نے لکھا ہے ’مجھے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک خاتون کا رنگ یا جسم پارلیمنٹ میں بحث کا موضوع کیسے ہو سکتا ہے‘۔