تیل کی قیمتوں میں کمی سےروسی معیشت سکڑنے لگی

،تصویر کا ذریعہRIA Novosti

روس کی معیشت کے حالیہ اعدادوشمار کے مطابق سنہ 2015 میں روس کی معیشت تین اعشاریہ سات فیصد کی شرح سے سکڑ رہی ہے۔

ملک میں فروخت میں دس فیصد کمی ہوئی اور سرمایہ کاری کی شرح بھی کم ہو رہی ہے جبکہ 2014 میں بھی روس کی معیشت بہت کم رفتار سے ترقی کر رہی تھی۔

حالیہ کچھ عرصے میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قمیت میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے اور گذشتہ پندرہ ماہ میں قیمتیں 70 فیصد تک گر گئی ہیں۔

کرائمیا کے معاملے کے بعد مغربی ممالک نے روس پر پابندیاں عائد کیں اور اُس نے بھی کسی حد تک روسی معشیت کو متاثر کیا ہے۔

روس کے وزیراعظم دمتری میدوی ایدف نے خبردار کیا تھا کہ تیل کی قیمتیوں میں کمی سے روس کو سنہ دو ہزار سولہ کے بجٹ پر نظر ثانی کرنا پڑے گی۔

دوسری جانب صدر پوتن نے دسمبر میں کہا تھا کہ حکومت نے بجٹ کا تخمینے میں خام تیل کی قیمت پچاس ڈالر فی بیرل رکھا تھا لیکن اب خام تیل کی قیمت 30 ڈالر فی بیرل سے بھی کم ہو گئی ہے۔

ہم گھبراہٹ میں نہیں ہیں

روس کے ایک ٹی وی چینل اتوار کو ہفتے وار جائزے کے دوران روبیل کی تصاویر کے ساتھ کہا تھا کہ ’ہم گھبراہٹ میں نہیں ہیں‘۔

ممکن ہے کہ روس گھبراہٹ کا شکار نہ ہو لیکن پریشان ضرور ہے۔

روس میں ریاست کے زیر کٹرول میڈیا اس اقتصادی بحران کا ذمہ دار تیل کی گرتی قیمتوں کے بجائے مغربی پابندیوں کو ٹھہرا رہے ہیں۔

گو کہ صدر پوتن 15 برسوں سے روس کی باگ ڈور سنھبالے ہوئے ہیں لیکن وہ ملک میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے معیشت پر ممکنہ اثرات سے بچانے کی حکمتِ عملی نہیں بنا پائے ہیں اور نہ ہی روس کی معیشت کے دائرے کار کو بڑھانے کے سلسلے میں اقدامات کیےگئے ہیں۔ روس کی معشت کا دارومدار پیڑولیم مصنوعات کی برآمد پر ہے۔

روس کے شہری پریشان ہیں

ملک میں مہنگائی میں شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔نوکریاں ختم ہو رہی ہیں اور روس کے عوام کی حقیقی آمدن کم ہو رہی ہیں

رواں ماہ کے آغاز میں روس کے معمر افراد نے سفری پاس کی سہولت ختم کرنے پر احتجاج کیا تھا۔

روس کی معشیت جس حد تک متاثر ہوگی اُسی حد تک حکومت کی جانب سے عوام کو فراہم کی گئی سہولیات ختم ہوں گی۔

روس میں تیل وگیس کے شعبے سے حاصل ہونے والے محصولات روس کی مجموعی آمدن کا نصف ہیں۔

ماہر اقتصادیات ولیم چیکسن کا کہنا ہے کہ ’گو کہ روس کی معشیت بد ترین بحران کا سامنا کر چکی ہے لیکن معیشت ابھی بھی کمزور ہے۔ دوسرے لگاتار سال میں بھی تیل کی قیمتوں میں کمی اور کرنسی کی قدر گرنے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔‘

گذشتے ہفتے ڈالر کے مقابلے میں روبیل کم ترین سطح پر آگیا تھا لیکن پھر تیل کی قیمتوں میں بہتری سے روبل کی قدر بہتر ہوئی۔

روس کے وزیر اقتصادیات نے توقع ظاہر کی ہے کہ روس کا مرکزی بینک شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھے گا۔

روس کے مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ ’ملک کی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

روس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6 فیصد ہے اور 44 لاکھ افراد بے روزگار ہیں۔