برطانیہ میں کانسی کے دور کے ’محفوظ ترین مکانات‘ دریافت

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کانسی کے عہد کا ابھی تک کا سب سے محفوظ گھر ہے

،تصویر کا ذریعہCambridge archaeological unit

،تصویر کا کیپشنماہرین کا خیال ہے کہ یہ کانسی کے عہد کا ابھی تک کا سب سے محفوظ گھر ہے

ماہرین آثار قدیمہ نے ’برطانیہ میں اب تک دریافت کیے جانے والے کانسی کے دور کے سب سے محفوظ ترین حالت میں پائے جانے والے رہائشی گھروں‘ کا انکشاف کیا ہے۔

کیمبرج شائر کے علاقے مسٹ فارم میں تقریباً ایک ہزار سے آٹھ سو قبل مسیح میں لکڑی کے سرکنڈوں پر تعمیر کیے جانے والے یہ گول مکانات کانسی کے دور کے رہائشی علاقوں کا پتہ دیتے ہیں۔

آگ لگنے کی وجہ سے یہ تمام گھر تباہ ہوکر دریا میں بہہ گئے تھے لیکن ان کے آثار دریا کی تہہ میں موجود مٹی میں محفوظ ہو گئے۔

آثار میں اس دور کے برتن ملے ہیں جن میں ابھی تک کھانا موجود ہے جبکہ کچھ کپڑے بھی دریافت ہوئے ہیں۔

وہٹسلے کے قریب اس مقام پر ابتدائی کھدائی کے دوران کچھ چھوٹے بڑے پیالے اور مرتبان دریافت ہوئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ انھیں کانچ کے ’رنگ برنگے‘ موتیوں سے بنا ایک ہار بھی ملا ہے، جس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ کانسی کے دور میں بھی لوگ حسن و نفاست کا خیال رکھتے تھے۔

وقت کا انجماد

کھدائی میں موتیاں بھی ملی ہیں جس سے ان کے رہن سہن کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکھدائی میں موتیاں بھی ملی ہیں جس سے ان کے رہن سہن کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے

کھدائی کے دوران درختوں کے چھلکوں سے بنے کپڑے بھی برآمد ہوئے ہیں۔

ان آثار کو زمین سے باہر نکالنا اس لیے بھی ضروری تھا کہ دریا میں پانی کی سطح کم ہو رہی تھی، یعنی کہ ان مکانات کی باقیات کو اس حالت میں محفوط نہیں رکھا جا سکتا تھا۔

یہ کھدائی برطانوی ادارے ہسٹورک انگلینڈ اور زمین کی مالک کمپنی فورٹیرا کی مشترکہ مالی معاونت سے کی جا رہی ہے۔

ہسٹورک انگینڈ کے چیف ایگزیکٹیو ڈنکن ولسن نے ان مکانات اور سامان کو ’عہد انسانی کے باب میں ایک غیر معمولی اضافے‘ سے تعبیر کیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’تین ہزار سال قبل خطرناک آگ اور دلدل نے مل کر انسانی بقا کے عمل کو روک دیا تھا، جو ہمیں کانسی کے دور کی زندگی کی تصویر دکھاتی ہے۔‘

ان کے مطابق: ’اس مقام کی بین الاقوامی اہمیت ہے اور اس سے ملنے والے آثار اس دور کی بارے میں ہمارے خیالت کو یکسر تبدیل کر دیں گے۔‘

روزمرہ زندگی

کھدائی میں چند برتن اور مرتبان بھی ملے ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکھدائی میں چند برتن اور مرتبان بھی ملے ہیں

کھدائی کے نگران اور کیمبرج کے آثار قدیمہ یونٹ کے رکن ڈیوڈ گبسن کا کہنا ہے کہ ’ہم نے بہت کچھ محفوظ کر لیا ہے۔ اب ہم کانسی کے دور کی روزمرہ زندگی کے بارے میں بھی جان سکتے ہیں۔

’ہم نے قبل از تاریخ کے ان آثار کو وقت، مقام اور تعداد کے لحاظ سے تھری ڈی میں محفوظ کر لیا ہے۔‘

ایک گول مکان کی چھت کی جلی ہوئی لکڑیاں واضح طور پر دکھائی دے رہی ہیں جبکہ لکڑیوں پر اوزاروں کے نشان بھی نظر آ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ لکڑی کے کھمبوں سے بنا ایک احاطہ بھی دریافت ہوا ہے۔

ماہرین کو موجودہ سطح سے چھ فٹ مزید گہرائی میں کھدائی کرنے کے بعد قدموں کے نشانات بھی ملے ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ کسی زمانے میں وہاں رہنے والے انسانوں کے قدموں کے نشانات ہیں۔

ان تمام آثار کی صفائی اور دستاویزی ریکارڈ محفوظ کرنے کے بعد توقع ہے کہ انھیں عوامی نظارے کے لیے رکھ دیا جائے گا۔