’ایران غلط اطلاعات پھیلانا بندکرے‘

،تصویر کا ذریعہAP
ترکی نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سعودی عرب میں شیعہ عالم شیخ نمر النمر کی سزائے موت کے معاملے میں ترک صدر رجب طیب اردوغان کے کردار سے متعلق غلط اطلاعات پھیلانا بند کرے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس سلسلے میں ترک حکام نے انقرہ میں ایرانی سفیر کو طلب کر کے کہا ہے کہ ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ میں اس بارے میں خبروں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
<link type="page"><caption> سعودی اتحادیوں کا ایران کے خلاف سفارتی محاذ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/01/160104_iran_saudi_diplomatic_rh" platform="highweb"/></link>
ترک وزارتِ خارجہ کی جانب سے جمعرات کی شب جاری کیےگئے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ترکی نے ایران سے ان اطلاعات کے بارے میں احتجاج کیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ شیخ نمر النمر کی سزائے موت پر عمل درآمد کا تعلق ترک صدر کے حالیہ دورۂ ریاض سے تھا۔
وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’ہم ایسے بیانات کی سختی سے مذمت کرتے ہیں جن میں ہمارے صدر پر الزامات لگائے گئے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس قسم کی خبروں کی اشاعت روکی جائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEPA
خیال رہے کہ ترکی کے نائب وزیراعظم نعمان کرتلمس نے تو شیخ النمر کی سزائے موت پر تنقید کی تھی تاہم بعد میں صدر اردوغان نے اسے سعودی عرب کا داخلی معاملہ قرار دیا تھا۔
ترک حکام نے تازہ بیان میں ایک بار پھر ایرانی دارالحکومت تہران اور مشہد میں سعودی عرب کی سفارتی عمارتوں پر حملوں کی بھی مذمت کی ہے۔
ترک حکومت ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں دونوں ممالک سے پرسکون رہنے کا اپیل کرتی رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس تنازعے سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔
خیال رہے کہ سعودی عرب اور خطے میں اس کے کئی حلیف ممالک نے ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے ہیں
دوسری جانب ایران کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ریاض تہران میں سعودی عرب کے سفارتخانے پر حملے کو جواز بنا کر کشیدگی پیدا کر رہا ہے۔







