’ایرانی سفارت خانے پر بمباری‘، سعودی عرب کی تردید

سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے سفارتخانے کے قریب کوئی کارروائی نہیں کی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے سفارتخانے کے قریب کوئی کارروائی نہیں کی

سعودی عرب نے ایران کے اس الزام کی تردید کی ہے کہ اس کی قیادت میں قائم اتحاد کے جنگی طیاروں نے یمن کے دارالحکومت صعنا میں ایران کے سفارت خانے پر بمباری کی ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ہونے والے ایک راکٹ حملے میں ’ایک گارڈ شدید زخمی‘ ہوا ہے، اور وہ اقوام متحدہ میں یہ مسئلہ اٹھائے گا۔

<link type="page"><caption> عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ: ویڈیو رپورٹ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2016/01/160105_saudi_iran_zzk" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’سعودی عرب نے سفارت خانے پر بمباری کی ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/01/160107_iran_accuses_saudi_bombing_zz" platform="highweb"/></link>

دوسری جانب سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے سفارتخانے کے قریب کوئی کارروائی نہیں کی۔

سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے الزامات ’غلط ہیں اور سفارتخانے کے قریب یا اس کے نواح میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔‘

بیان میں کہا گیا کہ اس کی تفتیش سے ’بھی تصدیق ہوتی ہے کہ سفارتخانے کی عمارت محفوظ ہے اور اس کو نقصان نہیں پہنچا۔‘

اس سے قبل عینی شاہدین اور رہائیشیوں کا کہنا تھا کہ فضائی حملوں میں سفارتخانے کو نقصان نہیں پہنچا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابر انصاری نے سعودی عرب پر ’سفارتی عملے کو تحفظ فراہم کرنے والے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنیمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے

ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہین کا کہنا ہے کہ ’صنعا میں سعودی عرب کی فضائی کارروائی کے دوران، ایک راکٹ ہمارے سفارتخانے کے قریب گرا اور بدقسمتی سے ہمارا ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔‘

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ایرانی سفارتخانہ مکمل طور پر فعال تھا کہ نہیں لیکن گذشتہ برس متعدد ممالک نے صعنا میں اپنے سفارت خانے خالی کر دیے تھے اور انھیں ساحلی شہر عدن میں منتقل کر دیا تھا۔

یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔

سعودی عرب میں شیعہ عالم شیخ نمر النمر کو موت کی سزا دینے کے بعد سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں جس میں سعودی عرب اور اس کے دیگر اتحادیوں سے ایران سے اپنے سفارت تعلقات ختم کر دیے ہیں۔