سویڈن نے سرحد پر مہاجرین کی جانچ پڑتال شروع کر دی

2015 میں سویڈن کو پناہ کے لے لیے ڈیڑھ لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہوئی تھیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن2015 میں سویڈن کو پناہ کے لے لیے ڈیڑھ لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہوئی تھیں

سویڈن نے ملک میں داخل ہونے والے مہاجرین کی تعداد کو محدود کرنے کے لیے ڈنمارک سے آنے والے مسافروں کی شناخت کی جانچ شروع کردی ہے۔

ڈنمارک اور سویڈن کے درمیان میں اوریسنڈ برج کو ٹرین، بس یا کشتی سے پار کرنے والے مسافروں کو ضروری دستاویز فراہم کیے بغیر سویڈن میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ریل کے ذریعے سویڈن آنے والے مسافروں کو اب کوپن ہیگن ایئر پورٹ پر ٹرین تبدیل کرنی ہوگی اور مختلف چیک پوائنٹس پر شناخت کرانے کے بعد سویڈن میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

2015 میں سویڈن کو پناہ کے لے لیے ڈیڑھ لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔

روزانہ ہزاروں مسافر اوریسینڈ برج پار کرتے ہیں، جو سویڈن کے شہروں مالمو اور لند کو ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن سے ملاتاہے۔

ریڈیو سویڈن کےمطابق اس نئے قانون پر عمل درآمد کے لیے کوپن ہیگن کے کاسٹروپ ایئرپورٹ پر موجود ریلوے سٹیشن کے ایک پلیٹ فارم کے گرد باڑ لگائی جارہی ہے۔

اب کوپن ہیگن کے مرکزی ریلوے سٹیشن سے اورینسڈ برج کے ذریعے سویڈن کا براہ راست سفر ممکن نہیں ہوسکے گا۔

ریلوے کمپنیوں نے سویڈن جانے والی ٹرنیوں کی تعداد کم کردی ہے، اور خبردار کیا ہے کہ سویڈن جانے والی ٹرینیں تاخیر کا شکار بھی ہوسکتی ہیں۔

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس وقت کوپن ہیگن سے براہ راست سویڈن جانے ٹرینوں کا سفر 40 منٹ ہے جس میں مزید 30 منٹ کااضافہ ہوسکتاہے۔

سویڈن کی حکومت نے اپنی سرحدوں پر اختیار رکھنے کے لیے یورپی یونین کے اوپن بارڈر شینجیئن معاہدے سے جزوقتی چھوٹ بھی حاصل کرلی ہے۔

گذشتہ ماہ سویڈن کی سرکاری ٹرین سروس ایس جے نے اعلان کیا ہے کہ وہ ڈنمارک اور سویڈن کے درمیان آنےجانے والی ٹرینوں کی سروس بند کر دے گی کیونکہ ان کے لیے نئے سوئیڈش قانون پر عمل درآمد ممکن نہیں ہے۔