تکریت کے قریب کیمپ پر خودکش حملہ، 12 اہلکار ہلاک

کیمپ سپیشر پر حملہ اتوار کی صبح ہوا اور اس میں کم از کم 20 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکیمپ سپیشر پر حملہ اتوار کی صبح ہوا اور اس میں کم از کم 20 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے

عراق کے شہر تکریت کے نواح میں واقع امریکی فوج کے سابق کیمپ پر خودکش حملے میں عراقی سکیورٹی فورسز کے کم از کم 12 اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور مرنے والوں میں سے بیشتر پولیس کے رنگروٹ تھے۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب رمادی سے پسپا ہونے والے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند شہر کے نواحی علاقوں میں دوبارہ حملے کر رہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے عراقی فوج نے صوبہ انبار کے شہر رمادی سے دولتِ اسلامیہ کا سات ماہ کا قبضہ ختم کروایا تھا۔

رمادی سے حال ہی میں واپس آنے والے بی بی سی کے نامہ نگار ٹامس فیسی کا کہنا ہے کہ شہر کے مرکزی اور شمال مشرقی علاقوں میں شدید لڑائی جاری ہے اور عراقی فوج کو جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔

کیمپ سپیشر پر حملہ اتوار کی صبح ہوا اور اس میں کم از کم 20 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

اطلاعات کے مطابق ان اہلکاروں کا تعلق صوبہ نینوا سے تھا جو دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں سے مقابلے کے لیے تربیت لے رہے تھے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دولتِ اسلامیہ نے ایک بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا ہدف ’تکفیری فوج کے تربیتی ارکان تھے۔‘

خیال رہے کہ اسی کیمپ میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے جون سنہ 2014 میں اپنی پیش قدمی کے دوران عراقی فوج کے تقریباً 1700 شیعہ اہلکاروں کو ہلاک کیا تھا۔